وزیراعلیٰ نے اس موقع پر یتیم بچوں میں روشن مستقبل کارڈز جبکہ بیواؤں میں سہارا کارڈز تقسیم کیے، روشن مستقبل کارڈ کے ذریعے 5 سے 16 سال تک کی عمر کے یتیم بچوں کو ماہانہ 5000 روپے دئیے جائیں گے۔ ابتدائی طور پر روشن مستقبل کارڈ  سے نو ہزار یتیم بچے مستفید ہونگے۔ اسلام ٹائمز۔ یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کے لیے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے اعلان کردہ دو پروگرامز ’’روشن مستقبل کارڈ اور سہارا کارڈ‘‘ کا باضابطہ اجرا کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں پیر کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ صوبائی وزیر برائے سوشل ویلفیئر سید قاسم علی شاہ کے علاوہ اراکین صوبائی اسمبلی، سرکاری حکام اور دیگر بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر یتیم بچوں میں روشن مستقبل کارڈز جبکہ بیواؤں میں سہارا کارڈز تقسیم کیے، روشن مستقبل کارڈ کے ذریعے 5 سے 16 سال تک کی عمر کے یتیم بچوں کو ماہانہ 5000 روپے دئیے جائیں گے۔ ابتدائی طور پر روشن مستقبل کارڈ  سے نو ہزار یتیم بچے مستفید ہونگے۔

اسی طرح "سہارا کارڈ" کے تحت 45 سال اور اس سے زائد عمر کی بیوہ خواتین کو بھی ماہانہ 5000 روپے دئیے جائیں گے۔ فی الوقت  15 ہزار بیوہ خواتین  سہارا کارڈ  سے مستفید ہونگی۔ ان کارڈز  کے ذریعے یتیم بچوں اور بیواؤں کو ہر ماہ کی پانچ تاریخ تک باقاعدگی سے مالی امداد ملے گی۔ ان کارڈز کے ذریعے مستحقین کو ماہانہ پانچ ہزار روپے کی ادائیگی رواں مہینے سے شروع ہوگی۔ عید الاضحٰی کی آمد کے پیش نظر مئی اور جون کی امدادی رقم یعنی دس، دس ہزار روپے اکٹھے دیئے جائیں گے۔ روشن مستقبل کارڈ اور سہارا کارڈ کی فراہمی کے لئے مستحقین کا انتخاب ایک صاف اور شفاف طریقے سے کیا گیاہے۔ مزید مستحقین کو بھی معاونت فراہم کرنے کیلئے ان پروگراموں کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: روشن مستقبل کارڈ سہارا کارڈ یتیم بچوں کے ذریعے جائیں گے

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ