---فائل فوٹو 

سندھ ہائی کورٹ نے شناختی کارڈ بلاک کیے جانے کے خلاف عوامی کالونی کے رہائشی کی درخواست پر سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا کہ نااہلی پر نادرا افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

سندھ ہائی کورٹ میں شناختی کارڈ بلاک کیے جانے کے خلاف عوامی کالونی کے رہائشی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

سندھ ہائی کورٹ نے نادرا حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے شناختی کارڈ کے اجراء میں شامل نادرا افسران کی فہرست طلب کر لی۔

سندھ ہائی کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ فہرست میں صرف ڈیٹا انٹری آپریٹر کے نام نہیں ہونے چاہئیں، ہمیں ان افسران کے نام بھی چاہئیں جو ڈیوٹی پر موجود تھے، نادرا افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

نادرا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار 1979ء سے پہلے کے کوئی دستاویزات پیش نہیں کر سکا۔

اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ درخواست گزار پاکستانی ہی نہیں ہے؟ اگر یہ پاکستانی نہیں ہیں تو ان کی اہلیہ اور بچوں کے شناختی کارڈ کی کی تجدید کیوں کی؟ بظاہر نادرا حکام اپنی نااہلی چھپانے کے لیے درخواست گزار پر الزام لگا رہے ہیں۔

بعدازاں سندھ ہائی کورٹ نے نادرا حکام کو افسران کی فہرست پیش کرنے کے لیے 29 مئی تک مہلت دے دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: سندھ ہائی کورٹ نے شناختی کارڈ کے خلاف

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ