آج سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
27 مئی کو دوپہر 12:18 بجے مکہ مکرمہ کے آسمان پر سورج عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا، ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ یہ منظر دنیا بھر کے مسلمانوں کو قبلہ کی سمت جانچنے کا قدرتی موقع فراہم کرتا ہے۔
فلکیاتی ماہرین نے اعلان کیا ہے کہ آج، منگل 27 مئی 2025 کو، سورج دوپہر 12:18 بجے (مکہ مکرمہ کے وقت کے مطابق) خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا (یعنی پاکستانی وقت کے مطابق 2 بج کر 18 منٹ پر)۔ اس نایاب فلکیاتی منظر کے دوران سورج عمودی طور پر کعبہ کے اوپر ہوگا، جس سے دنیا بھر کے مسلمان قبلہ کی درست سمت کا تعین با آسانی کر سکتے ہیں۔
سعودی عرب کی فلکیاتی سوسائٹی کے مطابق، یہ منظر سال میں دو بار رونما ہوتا ہے، جب سورج کا زاویہ زمین کے ایسے مقام پر آجاتا ہے کہ وہ خانہ کعبہ کے بالکل اوپر ہوتا ہے۔ اس موقع پر دنیا کے کسی بھی مقام سے اگر سورج کو دیکھا جائے تو وہی سمت قبلہ کی ہوگی۔
فلکیاتی سوسائٹی قصیم ریجن کے صدر، عیسیٰ الغفیلی کا کہنا ہے کہ جدید آلات کے بغیر بھی لوگ اس قدرتی منظر سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور سورج کی سمت کو دیکھ کر قبلہ کی درست سمت معلوم کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ رواں سال 2025 میں سورج کے خانہ کعبہ کے عین اوپر آنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ ماہرین نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے گھروں، مساجد اور دیگر مقامات پر قبلہ کی درستگی کو یقینی بنائیں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا قبلہ کی
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔