وفاقی حکومت کا شوگر سیکٹر کی نگرانی اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کا نظام تشکیل دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
وزارت قومی تحفظ خوراک و تحقیق نے فیصلہ کیا ہے کہ شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے چینی کے شعبے میں ڈیٹا اکٹھا کرنے اور نگرانی کا ایک نظام قائم کیا جائے گا۔
نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ پیر کے روز ایک اجلاس میں کیا گیا، جس میں چینی کے موجودہ ذخائر کا جائزہ لیا گیا، وزارت نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ یہ نظام ملک بھر میں گنے کی پیداوار اور حاصل شدہ مقدار کا درست انداز میں پتہ لگانے میں معاون ثابت ہوگا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خوراک رانا تنویر حسین نے قابل بھروسہ اور بروقت ڈیٹا کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ چینی کی درآمد و برآمد سے متعلق فیصلے اس نئے نظام کے تحت حاصل کردہ تصدیق شدہ ڈیٹا کی بنیاد پر کیے جائیں گے، اس سے ملکی منڈیوں میں استحکام آئے گا اور کسانوں و صارفین دونوں کے مفادات کا تحفظ ممکن ہوگا۔
رانا تنویر حسین نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ قریبی روابط کے ساتھ کام کریں تاکہ مجوزہ نظام کو جلد از جلد حتمی شکل دے کر نافذ کیا جا سکے، اور چینی کے شعبے میں یکسانیت، شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔
حکومت نے آئندہ خریف سیزن کے دوران 11 لاکھ ہیکٹر رقبے پر 8 کروڑ 3 لاکھ ٹن گنے کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید(فائل فوٹو)۔ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل دے دیا۔
ایک بیان میں سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ فلاحی ریاست کا درس دینے والے آج غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں ہیں؟
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن کا بیان ان کی سطحی اور غریب دشمن سوچ کا عکاس ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینا لاکھوں مستحق خاندانوں کی توہین کے مترادف ہے۔