18 کروڑ سے زائد صارفین کے پاس ورڈ چوری ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
18 کروڑ سے زائدصارفین کےپاس ورڈ، حساس معلومات چوری ہونےکا انکشاف ہوا ہے۔ عالمی ڈیٹا لیک میں گوگل، فیس بک، ایپل سمیت بڑی کمپنیوں کے صارفین متاثر ہوئے۔
انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ سمیت حکومتی پورٹلز کی معلومات بھی چوری کی گئی ہیں۔ انفوسٹیلر میلویئر سےصارفین کے اکاؤنٹس کی معلومات چوری کی گئیں۔
نیشنل کمپیوٹرا یمرجنسی رسپانس ٹیم نے ایڈوائزری جاری کردی۔ پاکستانی صارفین کو فوری طور پر اپنے اکاؤنٹس کے پاس ورڈ تبدیل کرنے کی ہدایت کی گئی ہیں۔
ایڈوائزری کے مطابق ڈیٹا لیک سےشناخت چوری، اکاؤنٹ ہیکنگ اور رینسم ویئر حملوں کاخطرہ ہے، سرکاری اداروں اور مالیاتی اکاؤنٹس بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق صارفین اپنےاکاؤنٹس کے Two-factor authentication عمل کو فعال کریں، پاکستانی صارفین کو پاس ورڈ منیجر کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
پاس ورڈ کبھی ای میل یا غیر محفوظ فائل میں نہ رکھیں۔ صارفین اینٹی وائرس اور سیکیورٹی سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ رکھیں۔ صارفین غیر معمولی لاگ ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔