کمیٹی کی منظوری کے بغیر ایک قانونی بل اسمبلی سے منظور کروالیا گیا: صاحبزادہ حامد رضا
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
صاحبزادہ حامد رضا—فائل فوٹو
قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کا اجلاس کے دوران کمیٹی کے چیئرمین حامد رضا نے کہا ہے کہ بلاسفیمی والا بل جب لایا گیا تو میں نے کہا تھا کہ یہ مت کریں۔ کمیٹی کی منظوری کے بغیر ایک قانونی بل اسمبلی سے منظور کروالیا گیا۔
قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کا اجلاس کے دوران کمیٹی کے چیئر مین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو کنٹرول نہیں کر سکتے، سوشل میڈیا پر شادی بیاہ کی وڈیوز وائرل ہوتی ہیں، باہر سے لوگ شادیاں کرنے آتے ہیں ڈالرز اور پاؤنڈز کی بارش کی جاتی ہے، یہ ویڈیوز ہمارے معاشرے میں زیادہ مایوسی پھیلا رہی ہیں۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ 18 سے 20 سال کا بچہ وی لاگ میں بتاتا ہے میں 20 کروڑ روپے کماتا ہوں، وہ یہ نہیں بتاتے کیا لفاظی استعمال کر کے پیسے کماتے ہیں؟
اسلام آباد سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ.
صاحبزادہ حامد رضا نے بتایا ہے کہ اجلاس کا ایجنڈا ہمارے علم میں لائے بغیر تبدیل کیا گیا تھا، چیئرمین کی اجازت کے بغیر ایجنڈا تبدیل کرنا قائمہ کمیٹی کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ اجلاس کے ایجنڈے کے نوٹسز تک ایشو ہو چکے تھے اور میں اس پر بھر پور احتجاج کرتا ہوں۔
صاحبزادہ حامد رضا نے بتایا کہ کمیٹی کی منظوری کے بغیر ایک قانونی بل اسمبلی سے منظور کرالیا گیا، بلاسفیمی والا بل جب لایا گیا تو میں نے کہا تھا کہ یہ مت کریں۔
انکا کہنا تھا کہ ہم اس پر بند کمرے میں غور کر رہے تھے، لیکن اگلے اجلاس میں یہ بل ایجنڈے سے نکال دیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹی کمیٹی کی کے بغیر
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔