عمران خان سے ملاقات کا دن؛ اڈیالہ جیل کے باہر علی محمد خان کی پولیس سے تلخ کلامی
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
راولپنڈی:
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات کے روز داہگل پولیس ناکے پر پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان اور وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ کو روک لیا گیا، جس پر پولیس افسران سے تلخ کلامی ہوگئی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ آئین پاکستان کا حلف آپ نے بھی لیا اور میں نے بھی لیا ہے، آپ کے پاس ہمیں روکنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ میں قومی اسمبلی کا ممبر ہوں، آپ کی خاموشی بتا رہی ہے آپ مجبور ہیں۔
علی محمد خان بغیر وردی میں موجود پولیس اہلکار پر بھی برہم ہوگئے، جس پر پولیس اہلکار نے بتایا کہ یہ ڈی ایف سی ہے۔
علی محمد خان نے کہا کہ قانون کو فالو کریں اس نے یونیفارم کیوں نہیں پہنی ہے، ہمارے خلاف پنجاب حکومت کا کوئی آرڈر دکھائیں۔ ہم پاکستان کے آزاد شہری ہیں۔
ایس ایچ او اعزاز عظیم سے مکالمہ کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ آپ کس قانون کے تحت ہمیں روک رہے ہیں، کیا آئی جی پنجاب یا سیکریٹری داخلہ نے آپ کو ہمیں روکنے کا حکم دیا ہے۔ کیا آپ لوگوں نے آئین کا آرٹیکل 15 پڑھا ہے۔
علی محمد خان نے کہا کہ آپ کو ہم سے کون سا ڈر ہے، کیا آپ عدالت کے احکامات نہیں مانتے۔ وقت کا پہیہ گھومتا رہتا ہے آپ سے پوچھا جائے گا۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل میں ملاقات کروانا نہ کروانا جیل انتظامیہ کا اختیار ہے، پنجاب پولیس کیسے کسی کو روڈ پر روک سکتی ہے، ہمارے چھ وکلاء کے نام دیے گئے ہیں میرا نام بھی شامل ہے، اڈیالہ جیل تک جانا ہمارا حق ہے پنجاب پولیس روک رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علی محمد خان نے کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام
یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔
ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔
مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت
ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ
ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان