فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف سے ملاقات، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
راولپنڈی: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وزیراعظم کے ساتھ دورہ ایران کے موقع پر ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف سے ملاقات کی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فوجی رہنماؤں نے دوطرفہ دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے سمیت علاقائی سلامتی کے منظر نامے پر تبادلہ خیال کیا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف نے فوجی تعاون کو بڑھانے، مشترکہ سرحد پر سیکیورٹی کو بہتر بنا کر تجارتی اور اقتصادی رابطوں کے زونز میں تبدیل کرنے کے راستے تلاش کرنے پر زور دیا، جس سے علاقائی استحکام اور خوشحالی آئےگی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی آمد پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، آرمی چیف کو ایرانی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس سے قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ آرمی چیف وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ سرکاری دورے پر ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر فیلڈ مارشل
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔