وزیراعظم شہباز شریف ایران کا 2 روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد آذربائیجان پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف ایران کا 2 روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد آذربائیجان پہنچ گئے۔
4 ملکی سفارتی مشن کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف ترکیہ اور ایران کے بعد آذربائیجان کے شہر لاچین پہنچ گئے جہاں وہ سہ فریقی اجلاس میں شرکت کریں گے، اس کے بعد ان کی اگلی منزل تاجکستان ہوگی۔
لاچین کے ہوائی اڈے پر آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بیراموف، آذر بائیجان میں تعینات پاکستانی سفیر قاسم محی الدین اور دیگر سفارتی عملے نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف ، ترکیہ کے صدر رجب طیب اِردوان اور آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے ساتھ پاکستان ۔ترکیہ ۔ آذربائیجان سہ فریقی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم آذر بائیجان کے صدر الہام علیوف سے دو طرفہ ملاقات بھی کریں گے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔
قبل ازیں تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی، ایران کے پاکستان میں سفیر رضا امیری مقدم، پاکستان کے ایران میں سفیر مدثر ٹیپو اور دیگر اعلیٰ سفارتی حکام نے وزیراعظم اور ان کے وفد کو الوداع کہا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دورہ ایران کے دوران ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای اور صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، بالخصوص تجارت، توانائی، سرحدی تعاون اور علاقائی روابط کے فروغ جیسے اہم امور زیرِ بحث آئے۔
وزیراعظم نے بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف جارحیت کے تناظر میں ایران کی خطے میں قیامِ امن کی کوششوں کو سراہا۔ دونوں ممالک نے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا اور غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور پائیدار جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔
دورے کے دوران پاکستان اور ایران نے باہمی اعتماد، بھائی چارے اور خطے کے امن و ترقی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان، ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کا خواہاں ہے۔
وزیراعظم کا یہ دورہ ان کے 4 ملکی سفارتی مشن کا تیسرا مرحلہ ہے، جو ترکیہ اور ایران کے بعد مکمل کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم اس سلسلے کے اگلے مرحلے میں تاجکستان جائیں گے، جسے خطے میں پاکستان کی فعال سفارت کاری اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے استحکام کی ایک اور اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف ایران کے کے بعد
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔