فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل محمد بغیری سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل محمد بغیری سے ملاقات—فوٹو فائل
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں ایران کے جنرل اسٹاف ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا ہے۔
فیلڈ مارشل کو ان کی آمد پر ایرانی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر ایران کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل محمد بغیری سے ملاقات کی ہے۔
دونوں عسکری رہنماؤں نے علاقائی سیکیورٹی کی ابھرتی ہوئی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا۔
اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے جوہری مذاکرات میں ایرانی قیادت کی بصیرت کی تعریف کی،
ملاقات میں دو طرفہ دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے اہم شعبوں میں عسکری تعاون کو بڑھانے پر زور دیا گیا۔
ملاقات میں مشترکہ سرحد پر سیکیورٹی کے نظام کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں سرحدی علاقوں کو تجارت اور اقتصادی روابط کے زونز میں تبدیل کرنے کے مواقع تلاش کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ہمراہ سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی۔
آرمی چیف وزیرِ اعظم کے ہمراہ ترکیہ، ایران اور آذربائیجان کے سرکاری دورے پر ہیں۔
آرمی چیف وزیرِ اعظم کے ہمراہ ان برادر ممالک کی قیادت سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل عاصم منیر جنرل اسٹاف سے ملاقات
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔