بانی پی ٹی آئی کیا اعلان کرنے والے ہیں؟ علیمہ خان نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
سابق وزیراعظم کی ہمشیرہ علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی کے پیغام دیتے ہوئے کہا پارٹی تیاری کرلے، بڑی تحریک کا اعلان کرنے والا ہوں۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم کی ہمشیرہ علیمہ خانم کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بانی نےکہا اب کارکنوں کو اسلام آباد نہیں بلاؤں گا، پورے ملک میں تحریک کی کال دوں گا۔علیمہ خانم کا کہنا تھا کہ عمران خان نے واضح کہہ دیا ہے پارٹی تیاری کرلے، بڑی تحریک کا اعلان کرنے والاہوں۔
ہمشیرہ نے مزید بتایا کہ انھوں نے کہا کہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے والوں کیلئے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں، ساری زندگی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن یزیدی اورفرعونیت کے نظام کے سامنے نہیں جھکوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بتایا کہ عام قیدی کو ملنے والی سہولت بھی میسرنہیں، بچوں سے7،8ماہ میں ایک باربات کرائی گئی ہے، فیملی سےملنےکی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: علیمہ خان
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔