پریس کانفرنس سے خطاب میں امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ حکومت فوری طور پر کے الیکٹرک کی ناقص کارکردگی و نااہلی کا نوٹس لے اور پابند کرے کہ وہ کراچی کے شہریوں کو بلاتعطل بجلی فراہم کرے، جماعت اسلامی نے سندھ ہائی کورٹ میں لوڈشیڈنگ کے حوالے سے پٹیشن دائر کردی ہے، ہمارا مطالبہ ہے کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے ادارہ نورحق میں شہر میں بدترین لوڈشیڈنگ، پانی کے بحران و دیگر عوامی مسائل کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح اہل کراچی کا خون چوس رہی ہے، ستم بالائے ستم اسے نوازا جارہا ہے، 7 سالہ ملٹی ائیر ٹیرف کی منظوری کے نتیجے میں ایک جانب 3 روپے 34 پیسے فی یونٹ کا اضافہ ہوگا، دوسری جانب ڈالر بیسڈ ریٹ مقرر کرنے سے جیسے جیسے ڈالر بڑھے گا بجلی کے بل میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا، اس سب کی ذمہ دار نیپرا، پاور ڈویژن، وفاقی حکومت اورصوبائی حکومت ہیں، کے الیکٹرک کی ناقص کارکردگی و نااہلی کی وجہ سے شدید گرمی وحبس کے موسم میں 18،18 گھنٹوں کی اعلانیہ، غیر اعلانیہ و طویل لوڈشیڈنگ اور پانی کی عدم فراہمی اہل کراچی پر ظلم ہے، اگر بجلی کی چوری ہورہی ہے تو چوروں کو پکڑنا حکومت، نیپرا اور کے الیکٹرک کی ذمہ داری ہے، اس کی سزا بل کی ادائیگی کرنے والوں کو نہ دی جائے، جماعت اسلامی کا مشاورتی عمل جاری ہے، اگر کے الیکٹرک نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو عوام آئی بی سیز، چوکوں اور چوراہوں کے ساتھ نیشنل ہائی وے، سپر ہائی وے، شاہراہ اورنگی و شاہراہ کورنگی بند کردیں گے اور کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس کے سامنے بھی دھرنا دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت فوری طور پر کے الیکٹرک کی ناقص کارکردگی و نااہلی کا نوٹس لے اور پابند کرے کہ وہ کراچی کے شہریوں کو بلاتعطل بجلی فراہم کرے، جماعت اسلامی نے سندھ ہائی کورٹ میں لوڈشیڈنگ کے حوالے سے پٹیشن دائر کردی ہے، ہمارا مطالبہ ہے کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کیا جائے، قومی تحویل میں لے کر  فارنزک آڈٹ کروایا جائے، ملک میں اضافی بجلی موجود ہے، اگر قومی گرڈ سے بجلی فراہم کی جائے تو کراچی کو کے الیکٹرک کی ضرورت نہیں رہے گی، کراچی میں نلوں کے ذریعے پانی کے نظام کو بحال کیا جائے، کے فور منصوبہ مکمل اورکراچی کو یومیہ 650 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جائے، اس وقت بمشکل 450 ایم جی ڈی روزانہ پانی دیا جارہا ہے، عید الاضحی کے بعد ہم شہر میں ایک بڑی عوامی مہم شروع کررہے ہیں، جماعت اسلامی اہل کراچی کے مسائل کے حل کے لئے آواز بلند کرتی رہے گی اور ہر آئینی اور جمہوری طریقے استعمال کرے گی، 28 مئی 1998ء کو پاکستان ایٹمی طاقت بنا تھا اور اس کا کریڈٹ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جاتا ہے، ”یوم تکبیر“ کو ”یوم ڈاکٹر عبدالقدیر خان“ کے طور پر منایا جائے گا، کراچی میں تمام یونین کونسلز اور ٹاؤنز میں بینرز آویزاں کیے جائیں گے اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔

منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ شہر میں ایک بڑا مسئلہ پانی کی عدم فراہمی کا بھی ہے، گزشتہ روز وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی صدارت میں ایک اجلاس میں بتایا گیا کہ 2025ء میں مکمل ہونے والا کے فور منصوبہ اب 30 جون 2026ء کو مکمل ہوگا، گزشتہ 20 سال سے کراچی کے شہریوں کے لیے ایک بوند پانی کا اضافہ نہیں ہوا، کراچی کا پورا ڈسٹرکٹ سینٹرل پانی سے محروم ہے، فیڈرل بی ایریا، لیاقت آباد، ناظم آباد، نارتھ کراچی، گلشن اقبال میں پانی فراہم نہیں کیا جارہا، شہری مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں، عوام کو نلکوں میں تو پانی میسر نہیں لیکن ہائیڈرینٹس پر 24 گھنٹے پانی فراہم کیا جارہا ہے، 3 ہزار کے پانی کا ٹینکر 15 سے 16 ہزار میں فروخت کیا جارہا ہے اور اربوں روپے پانی کے ذریعے کمائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیپرا نے کے الیکٹرک کی جانب سے لوڈشیڈنگ پر گزشتہ سال 5 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا، جس پر سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی نے ڈھٹائی سے جواب دیا اور کہا کہ ہم نے جرمانہ ادا کردیا لیکن ہم پابند نہیں ہیں ہم تو لوڈشیڈنگ کریں گے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ اہل کراچی کو پانی میسر ہے، نہ بجلی، اسٹریٹ کرائمز عروج پر ہیں، آئے دن لوگ ہیوی ٹریفک کے حادثات میں جاں بحق ہورہے ہیں، شہر کا انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے، اس سب کی ذمہ دار پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم سمیت وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں شامل تمام جماعتیں ہیں، اگر پورے پاکستان میں 13 کھرب روپے ٹیکس جمع ہوتا ہے تو اس میں تقریباً 8 کھرب روپے کراچی ادا کرتا ہے ایسے شہر کے ساتھ یہ سلوک کیا جارہا ہے، بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی موٹریں بھی نہیں چل سکتیں، پمپنگ اسٹیشن بند ہوجاتے ہیں، انٹر کے امتحانات ہورہے ہیں، طالبعلم شدید کرب اور اذیت سے گزر رہے ہیں، رات میں لوڈشیڈنگ کی وجہ سے لوگ نیند پوری نہیں کر پارہے، جس کی وجہ سے دفاتر میں ان کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے، لوگ جگہ جگہ احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے الیکٹرک کی جماعت اسلامی اہل کراچی کیا جارہا کی وجہ سے کیا جائے کراچی کے جارہا ہے کراچی کا میں ایک جائے گا کہا کہ

پڑھیں:

بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ

راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی  نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔

علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔

علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔   بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا 

اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔

مزید پڑھیں

اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات

190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے

علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا

انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا