سندھ حکومت سے بارہ ارب روپے دلوانے پر بلاول بھٹو کا شکر گزار ہوں، میئر کراچی
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
کراچی:
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو کا شکر گزار ہوں کہ سندھ حکومت سے بارہ ارب روپے دلوائے، اس رقم سے حب کینال تعمیر کی جارہی ہے جس سے چالیس ایم جی ڈی پانی زیادہ ملے گا، پھر ہم کے تھری کا پانی بہتر انداز میں دیگر علاقوں تک پہنچا سکیں گے۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی زیر صدارت کے ایم سی سٹی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد، پارلیمانی لیڈرز سمیت دیگر ارکان شریک ہوئے۔
مرتضیٰ وہاب نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ میں نے گزشتہ اجلاس میں کہا تھا کہ اس اجلاس میں واٹر کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور چیف آپریٹنگ آفیسر یہاں موجود ہوں گے، میرے احکامات کے بعد سندھ ہائیکورٹ نے دونوں افسران کے آرڈرز کو منسوخ کردیا۔
میئر کراچی نے کہا کہ کورٹ کو ری کال کرنے کیلئے ایمرجنسی درخواست کی ہے، ابھی فیصلہ نہیں آیا ہے۔ جو بھی اہم نکات ہوں گے وہ مسائل واٹر کارپوریشن کے افسران تک پہنچائیں گے۔
اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچنے والے چیف انجینئر بلک سید اعجاز احمد کو میئر کراچی نے اجلاس سے باہر بھیج دیا جس پر اپوزیشن لیڈر سیف الدین نے کہا کہ آپ انہیں باہر کیوں بھیج رہے ہیں، افسران کو اجلاس میں شرکت کرنے دیں۔
میئر کراچی کا کہنا تھا کہ یہ متعلقہ افسر نہیں اسطرح تو تمام وال مینوں کو بھی یہاں بلا لیں۔ اگلے اجلاس میں کوشش ہوگی سی ای او اور سی او او یہاں موجود ہوں۔
نجمی عالم نے کہا کہ کراچی کو تین زون میں بانٹ دیا جائے افسران بھی تعینات کیے جائیں تاکہ مسائل بہتر طریقے سے حل کرسکیں، واٹر کارپوریشن کے ریونیو میں بلنگ کا حصہ بہت کم ہے، ساٹھ کروڑ بمشکل جمع ہوپاتے ہیں یہ ادارے کے کام کرنے کے لیے بہت کم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ادارے کے محکمہ ریونیو میں اہلیت نہیں، چار سو اسامیاں خالی ہیں، متعدد کچی آبادیوں کو لیز کردیا گیا ہے وہاں بھی نارمل سلیب سے بل وصول کیا جائے۔ ٹیکس نیٹ بڑھائے بنا واٹر کارپوریشن کو چلانا ناممکن ہے۔
نجمی عالم نے کہا کہ کچی آبادیوں کو بھی نارمل آبادیوں والی بلنگ ہونی چاہیے، یقین سے کہہ سکتا ہوں کراچی کا زیادہ پانی کچی آبادیوں میں جارہا ہے، ویسٹ میں لوگوں نے اپنی لائنیں ڈالی ہوئی ہیں اسکے پیسے لیتے ہیں، جس کی نوے فیصد بلنگ کم ہوگی اسکا پیسہ بند کیا جائے، ادارے میں حاضری کا نظام بہتر بنانا ہوگا
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کے تھری کی لائن سے پانی زیادہ چوری ہورہا تھا، اب اس لائن کو ایلیویٹڈ بنایا جارہا ہے تاکہ چوری کو روکا جاسکے، ادارے کا کنزیومر چودہ لاکھ ہے، بل محض پانچ لاکھ لوگوں کو ڈیلیور ہوتا ہے اور بل تو اس سے بھی کم لوگ دیتے ہیں۔ لوگ بل دیتے ہی نہیں جیسے پانی ملتا نہیں لیکن سوائے چند ٹیل کے علاقوں کے پانی دستیاب ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منفی سیاست کی وجہ سے تصور ہے کہ واٹر بورڈ پانی نہیں دیتا، اسی بل میں پانی اور سیوریج کی دونوں کی سروسز کے پیسے ہیں، جب ہم نے ٹیک اوور کیا 1.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: واٹر کارپوریشن میئر کراچی اجلاس میں نے کہا کہ
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.