غزہ میں امدادی سامان کی تقسیم کے دوران افراتفری، اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 3 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
غزہ کے جنوبی شہر رفح میں منگل کے روز اسرائیلی فوج نے امدادی سامان کے لیے جمع ہونے والے ہجوم پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 3 فلسطینی شہید اور 46 زخمی ہوئے، جب کہ 7 افراد لاپتا ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کی مدد سے امدادی سامان تقسیم کرنے والی تنظیم، غزہ ہیومنٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) نے اس واقعے کی تردید کی ہے۔ دوسری طرف، اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے افراتفری ختم کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اور امدادی سرگرمیاں دوبارہ بحال کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ: ڈیڑھ ماہ تک تمام شہری قحط کا شکار ہوجائیں گے، عالمی ادارہ
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹمی بروس کا کہنا ہے کہ حماس اس امداد کی تقسیم کے خلاف ہے اور وہ غزہ کے ان امدادی مراکز کو روکنے کی کوشش کی، مگر ناکام رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں کچھ مسائل کا ہونا فطری ہے، مگر خوش خبری یہ ہے کہ غزہ کے لوگوں تک امداد پہنچانے والی تنظیمیں، امداد پہنچانے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں امداد کون پہنچا رہا ہے یہ اہم نہیں کون پہنچا رہا ہے یہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک علاقے میں 8 ہزار خوراک کے بکس پہنچائے گئے ہیں، ایک بکس میں 5 لوگوں کے لیے 3 دنوں کا کھانا موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔