ٹرمپ انتظامیہ کا غیر ملکی طلبہ کے ویزا اور انٹرویوز فوری روکنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اب تک ہزاروں طلبہ کے ویزے منسوخ کر چکی ہے جبکہ مزید ویزے منسوخ کرنے کی تیاری جاری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی طلبہ کے ویزا اور انٹرویوز فوری طور پر روکنے کا حکم دے دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق تمام بین الاقوامی درخواست گزاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی سخت جانچ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دستخط شدہ کیبل کے تحت ویزا درخواست گزاروں کی سوشل میڈیا پوسٹس، شیئرز اور تبصروں کی باریک بینی سے جانچ کی جائے گی۔ خبر ایجنسی کے مطابق امریکی اہلکار نے بتایا کہ یہ ویزا معطلی عارضی ہے اور ان درخواست گزاروں پر لاگو نہیں ہوتی جن کے ویزا انٹرویوز پہلے سے شیڈول ہیں۔ ویزا انٹرویو معطلی سے متعلق سوال پر امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ امریکی ویزے کے لیے درخواست دینے والوں کی جانچ کرنے کےلیے ہم ہر ممکن ذریعہ استعمال کرتے رہیں گے تاکہ یہ جان سکیں کہ یہاں کون آ رہا ہے، چاہے وہ طلبا ہوں یا کوئی اور۔ ٹرمپ انتظامیہ اب تک ہزاروں طلبہ کے ویزے منسوخ کر چکی ہے جبکہ مزید ویزے منسوخ کرنے کی تیاری جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ٹرمپ انتظامیہ ویزے منسوخ طلبہ کے
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔