مومن آباد(اوصاف نیوز)عید قربان کے موقع پر پولیس کے مبینہ غیر قانونی اقدام نے شہریوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ مومن آباد کی رہائشی مسمات بسمہ نے عدالت میں درخواست دائر کردی.

درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایس ایچ او انور معراج کی سربراہی میں پولیس اہلکار وں نے بغیر وارنٹ گھر میں داخل ہوئے اور 10 سے زائد بکرے، سونا، نقدی اور دیگر سامان لوٹ کرفرار ہوگئے .

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ اہلخانہ کو ڈرا دھمکا کر پولیس نے قربانی کیلئے رکھے گئے گھر میں موجود بکرے بھی نہیں چھوڑے۔ عدالت نے پولیس کے اس رویئے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا اور ریمارکس دیئے کہ ’یہ عمل قانون سے انحراف اور شہریوں کی عزت پامال کرتا ہے۔‘

عدالت نے ڈی آئی جی ویسٹ کو حکم دیا کہ وہ ایس ایس پی رینک کے افسر سے انکوائری کرائیں اور یہ وضاحت پیش کریں کہ پولیس قانونی طور پر گھر میں داخل ہوئی یا نہیں، کیا نقصان ہوا اور بکرے کہاں گئے؟ عدالت نے ہدایت دی کہ عیدالاضحیٰ سے قبل انکوائری مکمل کی جائے اور رپورٹ 6 جون کو عدالت میں جمع کرائی جائے۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں آج بروزبدھ 28مئی 2025 موسم کی تازہ ترین صورتحال

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف