علامہ شبیر حسن میثمی نے "بیداری امت میں تشیع کے کردار" پر مدلل گفتگو کی، جبکہ پروفیسر ڈاکٹر زاہد علی زاہدی نے تنظیمی کارکنان کو عصرِ حاضر کے تقاضوں، سماجی و سیاسی شعور، اور اسکلز ڈیولپمنٹ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور کا کارکن صرف وفادار نہیں، باشعور، مہارت یافتہ اور تجزیہ نگار بھی ہونا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ اصغریہ آرگنائزیشن پاکستان کے زیرِ اہتمام دو روزہ مرکزی ورکنگ کونسل اجلاس و مینیجمنٹ ورکشاپ کا انعقاد جامع مسجد جعفریہ اسٹیل ٹاؤن کراچی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سندھ بھر سے ڈویژنل و ضلعی ذمہ داران نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں سہ ماہی کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں، جن کی روشنی میں مختلف ڈویژنز اور اضلاع کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے قیمتی تجاویز و مشورے دیئے، جنہیں آئندہ کے لائحہ عمل میں شامل کیا گیا۔ ورکشاپ کے دوران تنظیمی نظم و نسق، قیادت سازی، پالیسی سازی، ادارہ جاتی بہتری، اور فکرِ ولایت جیسے موضوعات پر سیشنز منعقد ہوئے۔ ان نشستوں میں انجینئر غلام رضا جعفری، فضل حسین اصغری، عبدالرزاق بلو، محمد حنیف کانھیو، لطف مہدوی، سینگار حسین حسینی، مرکزی صدر غلام حسین جعفری و دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شیعہ علماء کونسل کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ شبیر حسن میثمی نے "بیداری امت میں تشیع کے کردار" پر مدلل گفتگو کی، جبکہ پروفیسر ڈاکٹر زاہد علی زاہدی نے تنظیمی کارکنان کو عصرِ حاضر کے تقاضوں، سماجی و سیاسی شعور، اور اسکلز ڈیولپمنٹ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور کا کارکن صرف وفادار نہیں، باشعور، مہارت یافتہ اور تجزیہ نگار بھی ہونا چاہیے۔

پروگرام میں دونوں روز قرآنِ کریم کی تلاوت سے آغاز کیا گیا، نہج البلاغہ کے خطبے اور معانی پر تدبر، اجتماعی دعائیں، اور اول وقت نمازِ باجماعت کی ادائیگی نے ورکشاپ کو معنویت سے بھر دیا۔ تربیتی نشستوں کے ساتھ ساتھ روحانی محافل اور ولائی گفتگوؤں نے شرکاء کے افکار و قلوب کو امام زمانہ (عج) کی نصرت کیلئے تیار کیا۔ اجلاس کے آخری سیشن میں آئندہ سال کے اہداف، تنظیمی پالیسیز، تربیتی منصوبے اور دعوتی سرگرمیوں کا تفصیلی خاکہ پیش کیا گیا۔ شرکاء کی قیمتی آرا سے منصوبہ بندی کو بہتر اور نتیجہ خیز بنایا گیا۔ پروگرام کا اختتام دعائے امام زمانہ (عج) کی اجتماعی تلاوت سے ہوا، جس میں شرکاء نے امام عصر (عج) کے ظہور، ملتِ تشیع کی ترقی اور تنظیمی مشن کی کامیابی کیلئے دعا کی۔ شرکاء نے امامِ وقت (عج) سے تجدیدِ عہد کرتے ہوئے اپنے شعوری، فکری اور عملی کردار کو مزید مؤثر بنانے کا عزم دہرایا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائےگا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔

واضح رہے کہ قبل ازیں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، تاہم آج قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ 5 جون کو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔

قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تاہم طارق فضل چوہدری نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews تاریخ کا اعلان طارق فضل چوہدری وفاقی بجٹ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ