چین، آسیان اور جی سی سی ممالک کے درمیان دوستانہ تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے، لی چھیانگ
کوالالمپور :چینی  وزیر اعظم لی چھیانگ نے ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم اور ویتنام کے وزیر اعظم فام منہ چن کے ساتھ آسیان -چین جی سی سی سہ فریقی اقتصادی فورم کی افتتاحی تقریب میں شرکت اور خطاب کیا ۔بدھ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق لی چھیانگ نے کہا کہ آسیان چین جی سی سی سربراہ اجلاس کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا جس سے سہ فریقی تعاون کا ایک نیا باب کھل گیا۔ سمٹ میں “مواقع پیدا کرنا اور خوشحالی کا اشتراک” کے موضوع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ، جو انتہائی معنی خیز رہا۔ بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تنازعات اور محاذ آرائیوں کے پیش نظرباہمی اعتماد  اور یکجہتی کو بڑھا کر، ہم طویل مدتی اسٹریٹجک مواقع پیدا کرنے اور طویل مدتی مستحکم ترقی حاصل کرنے کے قابل ہوں گے.

تحفظ پسندی اور یکطرفہ تسلط کے  بڑھنے کے پیش نظر، کھلے پن کو وسعت دینے اور رکاوٹوں کو ختم کرنے میں تسلسل سے مارکیٹ میں وسیع مواقع پیدا ہوں گے اور  تمام ممالک کو ایک بڑی مارکیٹ کی مشترکہ تعمیر سے زیادہ منافع حاصل ہو سکے گا ۔ “ڈی کپلنگ ” اور “دیواروں اور رکاوٹوں کی تعمیر” میں اضافے کے پیش نظر ، وسائل کے اشتراک اور ایک دوسرے کو بااختیار بنانے پر زور دینے سے تبدیلی اور اپ گریڈنگ کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں ، اور تمام ممالک کی صنعتی کارکردگی اور پائیدار ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوسکتا ہے۔لی چھیانگ نے نشاندہی کی کہ چین، آسیان اور جی سی سی ممالک کے درمیان دوستانہ تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے، اور گہری تاریخی   بنیاد  پر کھڑا ہو کر ، سہ فریقی تعاون یقینی طور پر نئی ترقی کی منازل طے کرے گا اور مستقبل زیادہ پر امید ہوگا لی چھیانگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین اپنی اعلیٰ معیار کی ترقی کے ساتھ سہ فریقی تعاون میں مزید تیزی لانا جاری  رکھے گا۔ اس سال کے آغاز سے ، چین کی معیشت کی بحالی کا سلسلہ جاری ہے ، اور مثبت ترقی کے رجحان  سے چینی معیشت  مکمل طور پر مستحکم  ہے۔ جیسا کہ صدر شی جن پھنگ نے نشاندہی کی ہے کہ ’چین کی معیشت ایک سمندر ہے،  نہ کہ ایک چھوٹا تالاب ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اعلیٰ سطح کے  کھلے پن کو مسلسل وسعت دیں گے، ملکی اور بین الاقوامی دوہری گردش کی  باہمی ترقی  کو فروغ دیں گے، آسیان اور جی سی سی ممالک  اور  پوری دنیا کے کاروباری اداروں کو چین کے ترقیاتی مواقع میں شریک  کریں گے۔

Post Views: 4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سہ فریقی تعاون اور جی سی سی مواقع پیدا ا سیان

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم

روم:   پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ