دنیائے کرکٹ سے بڑی خبر۔۔بھارت اے سی سی اجلاس میں آنے کوتیار، ایشیا کپ شیڈول کا اعلان متوقع
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
بھارت پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کی زیرصدارت ڈھاکہ میں ہونیوالے ایشین کرکٹ کونسل اجلاس میں شرکت پر رضامند ہوگیا
پی سی بی کے سربراہ محسن نقوی کی زیرصدارت ایشین کرکٹ کونسل کا اجلاس کل ڈھاکا میں ہوگا، بھارتی میڈیا نے بتایا کہ بھارت ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں شرکت کرےگا، بھارت وڈیو لنک کے ذریعے اے سی سی اجلاس میں شرکت کرے گا
بھارتی میڈیا کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان نے بھی میٹنگ میں شرکت کیلئے اپنا نمائندہ ڈھاکا بھیج دیا، اے سی سی اجلاس میں ایشیا کپ کے شیڈول کا اعلان متوقع ہے۔
رواں برس 3 اپریل کو چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے ایشین کرکٹ کونسل کی صدارت کا منصب سنبھالا ہے جب کہ انھوں نے رواں ماہ 24 جولائی کو نئی باڈی کا اجلاس بنگلہ دیش میں طلب کیا۔
تاہم گزشتہ دنوں بھارت بنگلہ دیش سے سیاسی تناؤ کی وجہ سے اس اجلاس کی مخالفت میں کھل کر سامنے آیا تھا اور رکن ممالک سے اجلاس میں شرکت نہ کرنے سے متعلق لابنگ شروع کر دی تھی۔
رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ بھارت کی جانب سے رکن ممالک کو اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر پرکشش آفرز بھی کی گئی تھیں۔
آئی سی سی چیئرمین جے شاہ نے بھی اس کے لیے لابنگ کی تھی جس کے بعد سری لنکا اور اومان نے بھارت کے موقف کی حمایت کی تھی، تاہم اکثر رکن ممالک اے سی سی اجلاس کا انعقاد ڈھاکا میں چاہتے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایشین کرکٹ کونسل اجلاس میں شرکت اے سی سی اجلاس
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔