جنگ کے لیے تیار ہیں، خودمختاری کو چیلنج کرنے والے کو عبرتناک جواب ملے گا، اویس لغاری WhatsAppFacebookTwitter 0 28 May, 2025 سب نیوز


اسلام آباد:وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی ہمارا اولین اور آخری مقصد ہے، ہم امن کے داعی ہیں، جنگ کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہیں ،جو ہماری خودمختاری کو چیلنج کرے گا، اسے عبرتناک جواب ملے گا، یومِ تکبیر صرف ماضی کا احسان نہیں بلکہ مستقبل کا عہد نامہ ہے۔

وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری نے یوم تکبیر پر اپنے پیغام میں کہا کہ آج ہم اس عظیم دن کو یاد کر رہے ہیں جب پاکستان نے چاغی کے پہاڑوں سے دنیا کو یہ پیغام دیا تھا کہ اب ہماری خودمختاری پر آنچ نہیں آنے دیا جائے گا۔

سردار اویس لغاری نے کہا کہ 28 مئی 1998 وہ تاریخی لمحہ تھا جب ہم نے اپنی حفاظت کا ایٹمی ڈھال اپنے ہاتھوں سے تیار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا واضح پیغام ہے کہ پاکستان کی سلامتی ہمارا اولین اور آخری مقصد ہے، ہم امن کے داعی ہیں مگر جنگ کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہیں اور جو بھی ہماری خودمختاری کو چیلنج کرے گا اسے عبرتناک جواب ملے گا۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ہمارے سائنسدانوں اور دفاعی ماہرین کی قربانیوں نے ہمیں ناقابل تسخیر بنا دیا ہے ،پاکستان کا ایٹمی پروگرام صرف اور صرف دفاعی ضرورت ہے جس کا مظاہرہ معرکہ حق کے دوران ساری دنیا نے دیکھا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جو ہمارے امن پسند رویے کو کمزوری سمجھے وہ تاریخ کے اوراق میں ہماری طاقت کا مشاہدہ کر چکا ہے۔ پاکستان کبھی جارحیت نہیں کرے گا مگر جو بھی ہم پر جارحیت کرے گا،اسے عبرتناک شکست ہوگی۔

وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ جس طرح 1998 میں ہم نے دنیا کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، آج بھی ہماری قوم اسی عزم، جذبے اور ولولے کے ساتھ کھڑی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یومِ تکبیر صرف ماضی کا احسان نہیں بلکہ مستقبل کا عہد نامہ ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفیلڈ مارشل کی آذربائیجان کے وزیرِ دفاع سے ملاقات، دفاعی تعلقات مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ فیلڈ مارشل کی آذربائیجان کے وزیرِ دفاع سے ملاقات، دفاعی تعلقات مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ مخصوص نشستوں سے متعلق کیس: مسلم لیگ (ن) نے اضافی گزارشات سپریم کورٹ میں جمع کرادیں بلوچستان: ضلع موسیٰ خیل میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، کالعدم تنظیم کے 4 دہشت گرد ہلاک چشمہ نیوکلیئر پلانٹ یونٹ 5 تکمیل کے بعد 1200 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا: پاکستان اٹامک انرجی کمیشن مودی کی پانی کو ہتھیار بنانے کی باتیں عالمی اصولوں کیخلاف ہے: ترجمان دفتر خارجہ غزہ پر مسلسل جارحیت نے اسرائیل کو تنہا کر دیا:امریکی اخبار کا انکشاف TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: خودمختاری کو چیلنج جنگ کے لیے تیار ہیں

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا