اپنے پیغام میں اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہا کہ یومِ تکبیر صرف دفاعی قوت کا دن نہیں بلکہ ایک اجتماعی شعور، خودداری اور قومی وقار کے عہد کی تجدید کا دن ہے، ہمیں اپنے ایٹمی دفاع کو شہدا اور محنت کشوں کی امانت سمجھ کر محفوظ رکھنا ہے اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک مضبوط و پرامن پاکستان کی بنیاد کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے کہا ہے کہ یومِ تکبیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب قوم متحد ہو، قیادت دور اندیش ہو اور دفاعی ادارے پرعزم ہوں، تو کوئی طاقت ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی۔ یومِ تکبیر کے موقع پر قوم کے نام پیغام میں سید اویس قادر شاہ نے کہا کہ یہ دن ہمارے ایٹمی پروگرام سے وابستہ ان سائنسدانوں، انجینئرز، افواج اور قیادت کی کاوشوں کا اعتراف ہے جنہوں نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ انہوں نے کہا کہ شہید قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو نے عالمی دباؤ کے باوجود قومی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے جو جرات مندانہ فیصلے کیے، وہ تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس قومی مشن کو بھرپور سیاسی دانش و بصیرت کے ساتھ جاری رکھا۔انہوں نے کہا کہ یومِ تکبیر صرف دفاعی قوت کا دن نہیں بلکہ ایک اجتماعی شعور، خودداری اور قومی وقار کے عہد کی تجدید کا دن ہے، ہمیں اپنے ایٹمی دفاع کو شہدا اور محنت کشوں کی امانت سمجھ کر محفوظ رکھنا ہے اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک مضبوط و پرامن پاکستان کی بنیاد کو مزید مضبوط بنانا ہے، اللہ تعالی پاکستان کو ہمیشہ محفوظ، خودمختار اور ترقی یافتہ رکھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی