بھارت کیخلاف پاکستان کی کامیابی کا آذربائیجان میں بھی جشن منایا گیا: عطاء تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا ہے کہ بھارت کے خلاف پاکستان کی کامیابی کا آذربائیجان میں بھی جشن منایا گیا ہے۔
لاچین میں گفتگو کرتے ہوئے عطاء تارڑ نے کہا کہ پاکستان، آذربائیجان اور ترکیہ آزمائش کی ہر گھڑی میں متحد رہیں گے۔
پاکستان نے بھارت کے 4 رافیل طیاروں سمیت 6 جہاز گرائے: وزیرِ اعظم شہباز شریفوزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کا جھوٹا الزام پاکستان پر لگایا، پاکستان نے پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا، بھارت نے رات کے اندھیرے میں پاکستان کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا
خیال رہے کہ لاچین میں آذربائیجان کی یومِ آزادی کی تقریب میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ترک صدر طیب اردوان بھی شریک ہوئے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ 7 مئی کو پاک فضائیہ نے بھارت کے 4 رافیل طیاروں سمیت 6 جہاز گرائے، 9 مئی کو بھارت کے ایک اور حملے کے بعد پاکستان نے سبق سکھانے کا فیصلہ کیا، آرمی چیف عاصم منیر سے کہا کہ بھارت کو ایسا سبق سکھایا جائے جو ہمیشہ یاد رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بھارت کے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔