وزیراعظم شہباز شریف— فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کی، پاکستان نے بھارت کے 4 رافیل طیاروں سمیت 6 جہاز گرائے۔

آذر بائیجان کے یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ 9 مئی کو بھارت کے ایک اور حملے کے بعد پاکستان نے دشمن کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا، میں نے آرمی چیف عاصم منیر سے کہا کہ بھارت کو ایسا سبق سکھایا جائے جو ہمیشہ یاد رہے، صبح ساڑھے 4 بجے ہم نے بھارت کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کیا، ساڑھے 9 بجے مجھے آرمی چیف نے فون کر کے کہا کہ بھارت جنگ بندی چاہتا ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے دشمن کو عبرت ناک شکست دی۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کا جھوٹا الزام پاکستان پر لگایا، پاکستان نے پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا، بھارت نے رات کے اندھیرے میں پاکستان کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا، پاکستان پر حملہ کیا جس میں معصوم بچے اور خواتین شہید ہوئیں، پاکستان نے دن کی روشنی میں بھارت کی صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، پاکستان کی مؤثر جوابی کارروائی کے بعد بھارت نے جنگ بندی کی درخواست کی، پاکستان امن پسند ملک ہے اس لیے ہم نے جنگ بندی کی درخواست قبول کی۔

وطن عزیز کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنا اچھی طرح جانتے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بحری فوج کی تیاری دیکھ کر دشمن کی اس طرف حملہ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی

شہباز شریف نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی میں ترکیہ اور آذربائیجان کی حمایت پر شکر گزار ہیں، مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے ترکیہ اور آذربائیجان کی حمایت پر  شکر گزار ہیں، مسئلہ کشمیر کا اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل چاہتے ہیں، مقبوضہ کشمیر کی وادی کو بھارت نے کشمیریوں کے خون سے نہلا دیا ہے، کشمیر کے مجاہدین آزادی اپنے حق کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں، وہ وقت دور نہیں جب کشمیری آزاد ہو کر غلامی کا طوق اتار پھینکیں گے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ جب آرمینیا نے آذربائیجان پر حملہ کیا تو پاکستان اور ترکیہ اس کے ساتھ کھڑے رہے، آج آذربائیجان کا یومِ آزادی ہے اور آج ہی کے دن پاکستان ایٹمی طاقت بنا، آج ہم آذربائیجان کا یومِ آزادی اور پاکستان کا یومِ تکبیر ایک ساتھ منا رہے ہیں، یومِ آزادی پر آذربائیجان کے عوام کو پاکستان کی طرف سے مبارک باد پیش کرتا ہوں، کیسا حسین اتفاق ہے کہ 28 مئی کو ہی پاکستان دنیا کی پہلی مسلم ایٹمی طاقت بنا۔

پاکستان و ترکیہ نے جنگِ آزادی میں بھرپور ساتھ دیا: صدر آذربائیجان الہام علیوف

الہام علیوف نے کہا کہ ترکیہ، پاکستان اور آذربائیجان کا تعاون مزید مستحکم ہوگا، یوم آزادی کی تقریب میں ترکیہ اور پاکستان کی شرکت ہمارے لیے باعث فخر ہے،

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقوں کی آزادی پر آذربائیجان کے عوام کو مبارک باد، ترکیہ کے ساتھ پاکستان نے بھی آذر بائیجان کی جنگ میں اخلاقی سفارتی حمایت کی، پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان ترقی اور خوش حالی کا سفر مل کر طے کریں گے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم تینوں ملک مطالبہ کرتے ہیں کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کی جائے، غزہ میں ہزاروں فلسطینی بچوں اور خواتین کو شہید کیا گیا، مظلوم فلسطینیوں کے لیے آواز بلند کرنے پر دنیا ترک صدر طیب اردوان کی معترف ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: شہباز شریف نے کہا کہ اعظم شہباز شریف پاکستان نے پاکستان کی ترکیہ اور بھارت نے نے بھارت بھارت کے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری