کراچی؛ کرنٹ لگنے کے مختلف واقعات میں 3 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
کراچی:
شہر کے مختلف علاقوں میں کرنٹ لگنے کے واقعات میں 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق کورنگی مہران ٹاؤن معراج مسجد کے قریب کارخانے میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا جس کی لاش چھیپا کے رضا کاروں نے ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال پہنچائی۔
ریسکیو حکام کے مطابق متوفی کی شناخت 45 سالہ افضل کے نام سے کی گئی جبکہ واقعہ کارخانے میں کام کے دوران بجلی کا کرنٹ لگنے کے باعث پیش آنے کا بتایا جا رہا ہے جس کی پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
اورنگی ٹاؤن کے علاقے سیکٹر ساڑھے گیارہ طوری بنگش چوکی کے قریب گھر میں نوجوان کو کرنٹ لگ گیا جسے فوری طور پر عباسی شہید اسپتال لیجایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی۔
ریسکیو حکام کے مطابق متوفی کی شناخت 18 سالہ عبدالغفار کے نام سے کی گئی جسے گھر میں بجلی کے تار سے کرنٹ لگا تھا اور اسپتال میں جاں بحق ہوگیا۔
دریں اثنا گلستان جوہر بلاک 7 صفورا چورنگی کے قریب کام کے دوران کرنٹ لگنے سے نوجوان جاں بحق ہوگیا جس کی لاش جناح اسپتال لائی گئی۔
چھیپا حکام کا کہنا ہے متوفی کی لاش گلستان جوہر پولیس کی معرفت اسپتال لائی گئی تھی جس کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی جبکہ اس کی عمر 25 سال کے قریب بتائی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔