پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان کا ایشیا کپ بھارت سے منتقل کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے ایشیا کپ بھارت کی بجائے کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے کا مطالبہ کردیا۔
کراچی میں یوم تکبیر کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قومی ہاکی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ ایشیا ہاکی کپ بڑا ایونٹ ہے، تاہم پاک بھارت تنازعہ کے باعث بھارت میں کھیلنا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ کھیل سیاست سے دور رکھتے ہیں مگر موجودہ حالات میں پاکستان کا وہاں جاکر کھیلنا بہت بڑا رسک ہے، انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن جس مقام کا فیصلہ کرے گی، ہم ہاکی کھیلنے ضرور جائیں گے اور اس کے لیے حکومت کی منظوری بھی ضروری ہے۔
واضح رہے کہ ایشیا کپ کا 12 واں ایڈیشن 27 اگست سے 17 ستمبر تک بھارت کے شہر راج گڑھ میں شیڈول ہے، عالمی کپ ہاکی ٹورنامنٹ 2026 کا کوالیفائرہونے کے ناطے اسی ایونٹ کی افادیت مزید بڑھ گئی ہے۔
پاکستان ایشیا کپ جیت کرعالمی کپ کے لیے کوالیفائی کرنا چاہتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایشیا کپ
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔