اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 22 جولائی 2025ء) عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) اور پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے ایشیائی الکاہل خطے میں نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو ہنر مند بنانے کا پروگرام شروع کیا ہے جس سے انہیں روزگار کے حصول اور باوقار زندگی گزارنے میں مدد ملے گی۔

'ٹرین ٹو ہائر' نامی اس پروگرام کی بدولت پناہ گزینوں کے لیے افرادی قوت کی عالمی منڈیوں تک رسائی مزید آسان ہو جائے گی۔

اس پروگرام کے لیے آسٹریلیا کی حکومت نے ابتداً 22 ماہ کے لیے مالی وسائل مہیا کیے ہیں جس کے ذریعے امیدوار ہنر سیکھیں گے اور اپنی صلاحیتوں کو روزگار کے بین الاقوامی مواقع کے مطابق ڈھال سکیں گے۔ اس طرح افرادی قوت کی منڈی میں ہنرمند لوگوں کی کمی کو پورا کرنے اور پناہ گزینوں کو خودانحصاری کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد ملے گی۔

(جاری ہے)

Tweet URL

آسٹریلیا اس اقدام کے ذریعے 2023 میں پناہ گزینوں کے عالمی فورم میں کیے گئے اپنے وعدے کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔

'آئی او ایم' کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے کہا ہے کہ جب مہاجرین اور پناہ گزینوں کی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے تو ایسے مستقبل کے دروازے کھل جاتے ہیں جہاں ہنر کی اہمیت فرد کی حیثیت سے زیادہ ہوتی ہے اور جہاں لوگ باوقار اور بامقصد طور سے ترقی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پناہ گزین اور مہاجرین اپنے ساتھ ہنر، تجربہ اور عزم لاتے ہیں۔

اس اقدام کی بدولت ان صلاحیتوں کو افرادی قوت کی منڈی میں حقیقی مواقع سے جوڑنے میں مدد ملے گی جس سے ناصرف انہیں بلکہ ان کے میزبان علاقوں اور معاشروں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔تحفظ اور مواقع کا ذریعہ

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلیپو گرینڈی نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں نقل مکانی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے اور ایسے حالات میں پناہ گزینوں کو تحفظ اور مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اور بڑے پیمانے پر اقدامات کی ضرورت ہے۔

'ٹرین ٹو ہائر' پروگرام کی بدولت ان لوگوں کے لیے روزگار تک رسائی کے قانونی راستے کھلیں گے اور اس سے سبھی کو فائدہ ہو گا۔ یہ امیر ممالک کی جانب سے مہاجرین اور پناہ گزینوں کے ساتھ یکجہتی کی ایک بڑی مثال ہے۔

اس اقدام کی بدولت اقوام متحدہ کے اداروں کو مشترکہ مقاصد پر باہمی تعاون کو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔ مشمولہ اور محفوظ مہاجرت کو وسعت دینا عالمگیر استحکام پر ٹھوس سرمایہ کاری کے مترادف ہے۔

یہ اقدام منظم مہاجرت میں سہولت دے کر پناہ گزینوں، ان کے میزبان معاشروں اور ممالک کے لیے بہتر نتائج لائے گا اور اس کی بدولت محفوظ و باقاعدہ نقل مکانی کے مزید مواقع کھلیں گے۔ اس طریقہ کار کی بدولت مہاجرت کے بے قاعدہ اور خطرناک راستوں پر انحصار کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔باوقار مستقبل کا راستہ

اگرچہ ہنر مند پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد دنیا بھر میں روزگار کا حصول چاہتی ہے اور بہت سے ممالک کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا بھی ہے لیکن اس کے باوجود بہت کم لوگ بیرون ملک روزگار حاصل کر پاتے ہیں۔

'او ای سی ڈی' اور 'یو این ایچ سی آر' کی فراہم کردہ معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2019 اور 2023 کے درمیان آٹھ ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 183,000 ہنرمند پناہ گزینوں کو امیر ممالک میں روزگار مہیا کیے گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر پناہ گزینوں کی نقل و حرکت پر عائد رکاوٹیں ہٹائی جائیں تو مزید بڑی تعداد میں ان لوگوں کی صلاحیتوں سے کام لیا جا سکتا ہے۔

ایشیائی الکاہل خطے میں شروع کردہ اس پروگرام سے پناہ گزینوں کے مخصوص گروہ کی موجودہ صلاحیتوں میں بہتری لانے کے لیے مخصوص تربیت مہیا کی جائے گی اور ایسی عام رکاوٹوں کو ختم کیا جا سکے گا جو آجروں کو نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی خدمات کے حصول سے روکتی ہیں۔

اس پروگرام کے تحت فراہم کی جانے والی تربیت ایسے شعبوں سے مخصوص ہو گی جنہیں افرادی قوت کی درمیانی سے طویل مدتی کمی کا سامنا ہے اور پناہ گزینوں کی صلاحیتوں کو آسٹریلیا اور دیگر علاقوں میں نوکریوں کی ضرورت سے ہم آہنگ کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ پروگرام 'یو این ایچ سی ار' اور 'آئی او ایم' کے مابین وسیع تر اور مضبوط تعاون کا حصہ ہے اور اس شراکت کی ضرورت اب پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے۔ دنیا بھر میں 42 لاکھ پناہ گزینوں کی بڑی تعداد مفید صلاحیتوں کی حامل ہے اور انہیں مواقع ملیں تو یہ لوگ محفوظ تر اور مزید باوقار مستقبل کی راہیں کھول سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اور پناہ گزینوں پناہ گزینوں کے پناہ گزینوں کی میں مدد ملے گی افرادی قوت کی اس پروگرام نقل مکانی کی بدولت ہے اور کے لیے

پڑھیں:

علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی

ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی  گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان