18 کروڑ سے زیادہ صارفین کے پاسورڈ اور حساس معلومات چوری، فوری کیا اقدامات کرنے چاہییں؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
ایک عالمی ڈیٹا لیک کے نتیجے میں 18 کروڑ سے زیادہ صارفین کے اکاؤنٹس کے پاسورڈز اور حساس معلومات چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے گوگل، فیس بک، ایپل، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ سمیت متعدد بڑی کمپنیاں اور حکومتی پورٹلز متاثر ہوئے ہیں۔ نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (سرٹ) نے اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر ایک ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں صارفین کو فوری طور پر اپنے اکاؤنٹس کے پاسورڈز تبدیل کرنے، دو مرحلہ جاتی توثیق (Two-Factor Authentication) فعال کرنے اور پاسورڈ مینیجر استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق یہ معلومات انفوسٹیلر میلویئر کے ذریعے چوری کی گئی ہیں اور میلویئر کے ذریعے چرائی گئی حساس معلومات مخصوص ڈیٹا بیسز میں محفوظ کی جا رہی ہیں۔ ان معلومات کے باعث شناخت کی چوری، اکاؤنٹ ہیکنگ اور رینسم ویئر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جبکہ کریڈنشل اسٹفنگ کے ذریعے خودکار حملے بھی متوقع ہیں۔ پاکستانی صارفین کی معلومات بعض عام ویب سائٹس پر عوامی طور پر دستیاب رہنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جس سے مالیاتی اکاؤنٹس، سرکاری اداروں اور حساس نظاموں کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں گوگل کی نئی اپڈیٹ، پاسورڈ کے بغیر اکاؤنٹ کو کیسے لاگ اِن کریں گے؟
نیشنل سرٹ نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے اینٹی وائرس اور سیکیورٹی سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ رکھیں، غیر معمولی لاگ اِن سرگرمیوں پر نظر رکھیں، اور کسی بھی صورت میں پاسورڈز کو ای میل یا غیر محفوظ فائلز میں محفوظ نہ کریں، اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر متاثرہ صارفین کو آگاہ کریں اور اپنی سیکیورٹی حکمت عملی پر نظرثانی کریں۔ ایڈوائزری میں زور دیا گیا ہے کہ مسئلے کا واحد مؤثر حل حفاظتی اقدامات، صارفین کی آگاہی اور مضبوط نگرانی کو یقینی بنانا ہے، بصورتِ دیگر پاکستان کا قومی ڈیجیٹل نظام شدید متاثر ہو سکتا ہے۔
تمام سوشل میڈیا صارفین اپنے پاسورڈز فوری تبدیل کریں، ڈی جی نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیمڈائریکٹر جنرل نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم حیدر عباس کا کہنا تھا کہ یہ خبر بالکل درست ہے کہ ایک عالمی ڈیٹا لیک میں 1.
حیدر عباس کا کہنا ہے کہ ہماری جانب سے تمام سوشل میڈیا صارفین کو اپنے تمام اہم اکاؤنٹس کے پاسورڈز فوری طور پر تبدیل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، خاص طور پر اگر ان کے پاسورڈز مختلف پلیٹ فارمز پر ایک جیسے ہی ہیں، نہ صرف یہ بلکہ دو مرحلہ جاتی توثیق کو فعال کریں، کسی بھی مشتبہ لنک یا ای میل، خاص طور پر پاسورڈ ری سیٹ سے متعلق کلک کرنے سے گریز کریں۔ اس کے علاوہ اکاؤنٹس میں کسی بھی غیر معمولی سرگرمی پر نظر رکھیں۔
پاسورڈز ہمیشہ مضبوط، منفرد اور مشکل انداز میں بنائیں، عثمان شوکتسائبر سیکیورٹی ایکسپرٹ عثمان شوکت کا کہنا تھا کہ اگر آپ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو حالیہ ڈیٹا لیک جیسے خطرناک سائبر حملوں سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، تو ضروری ہے کہ آپ ایک منظم اور مربوط حکمت عملی اختیار کریں۔ سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ آپ تمام اہم اکاؤنٹس کے پاسورڈز فوراً تبدیل کریں، خاص طور پر اگر وہ مختلف پلیٹ فارمز پر ایک جیسے استعمال ہو رہے ہوں۔ پاسورڈز ہمیشہ مضبوط، منفرد اور مشکل انداز میں بنائیں، اور بہتر ہوگا کہ آپ کسی معتبر پاسورڈ مینیجر کا استعمال کریں تاکہ انہیں اچھے طریقے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہاکہ صارفین دو مرحلہ جاتی توثیق کو ہر ممکن جگہ فعال کریں، کیونکہ یہ آپ کے اکاؤنٹس کو اضافی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس کے بعد اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں لاگ اِن ہسٹری اور غیر معمولی سرگرمیوں پر نظر رکھیں، تاکہ اگر کوئی غیر مجاز رسائی ہو رہی ہو تو آپ بروقت کارروائی کر سکیں، جیسے تمام سیشنز سے لاگ آؤٹ ہونا۔
انہوں نے مزید کہاکہ اپنی ریکوری ای میل اور فون نمبر کو اپ ڈیٹ رکھیں تاکہ اگر کبھی اکاؤنٹ کا کنٹرول چھن جائے تو آپ باآسانی دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں۔ مشکوک ای میلز یا پیغامات سے ہوشیار رہیں، خاص طور پر وہ جن میں پاسورڈ تبدیل کرنے یا ذاتی معلومات فراہم کرنے کی ہدایت ہو، کیونکہ اکثر سائبر حملہ آور فشنگ کے ذریعے صارفین کو دھوکہ دیتے ہیں۔
’اپنے موبائل اور کمپیوٹر ڈیوائسز کو اپ ڈیٹ رکھا جائے‘انہوں نے کہاکہ اسی طرح ایسے پلیٹ فارمز جیسے “HaveIBeenPwned” کے ذریعے باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں کہ آپ کا ای میل یا کوئی اور معلومات کسی ڈیٹا لیک میں شامل تو نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ اپنے موبائل اور کمپیوٹر ڈیوائسز کو اپ ڈیٹ رکھنا، اینٹی وائرس استعمال کرنا اور پبلک Wi-Fi پر VPN کے ذریعے کنکشن قائم کرنا آپ کے ڈیجیٹل تحفظ کو مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں ہیکرز کیسے پاسورڈ چوری کیے بغیر گوگل اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کررہے ہیں؟
عثمان شوکت نے بتایا کہ اگر آپ کسی کاروباری یا عوامی اکاؤنٹ کے منتظم ہیں، تو ضروری ہے کہ صرف قابل اعتماد افراد کو رسائی دی جائے اور ہر فرد کو اس کی ذمہ داری کے مطابق محدود اختیارات فراہم کیے جائیں۔ اس مربوط اور محتاط رویے کے ذریعے آپ نہ صرف اپنا ذاتی ڈیٹا محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ اپنی آن لائن شناخت اور ساکھ کو بھی محفوظ بنا سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پاسورڈ چوری سائبر سیکیورٹی صارفین فیس بک گول وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاسورڈ چوری سائبر سیکیورٹی صارفین فیس بک گول وی نیوز اکاؤنٹس کے پاسورڈز پلیٹ فارمز سوشل میڈیا صارفین کو کو اپ ڈیٹ ڈیٹا لیک کے ذریعے کہ اگر
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر