امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے معروف امریکی تھنک ٹینکس کے فکری رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا ہے، جس کی بنیادی وجہ بھارت کی مسلسل ہٹ دھرمی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انحراف ہے۔

رضوان سعید شیخ کا کہنا تھا کہ بھارتی پارلیمنٹ میں ’اکھنڈ بھارت‘ کا نقشہ پیش کیا جانا دراصل اس کے توسیع پسندانہ عزائم کا ثبوت ہے، جو نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کوئی تاریخ تنسیخ نہیں ہوتی، اور آج بھی یہ قراردادیں اتنی ہی اہم اور مسلمہ حیثیت رکھتی ہیں جتنی کہ ستر سال قبل تھیں۔ بھارت نے 2019 میں آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 122 کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی، جو کسی بھی فریق کو یکطرفہ اقدامات سے باز رہنے کا پابند کرتی ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے جوہری صلاحیت کے ذریعے روایتی عسکری عدم توازن کو متوازن کیا ہے، جس سے خطے میں ممکنہ تصادم کی شدت کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں پاکستان نے غیر معمولی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور بھارتی جارحیت کے باوجود دشمن کی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ مئی 2025 میں عوامی دباؤ کے باوجود پاکستان نے تحمل کا رویہ اپنایا، لیکن یہ صبر ہمیشہ ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل میں کسی بھی بھارتی جارحیت کا جواب بھرپور طاقت سے دیا جائے گا تاکہ بھارت کے ’نئے معمول‘کے نظریے کو مکمل طور پر رد کیا جا سکے۔

پاکستانی سفیر نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ حالیہ پاک بھارت جنگ بندی میں امریکا کا کردار کلیدی رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران کشیدگی میں کمی اور خطے میں تجارت کے فروغ پر زور دیا۔

رضوان شیخ نے توقع ظاہر کی کہ امریکا جنگ بندی کے بعد طے شدہ طریقہ کار کے تحت تمام تصفیہ طلب معاملات جن میں کشمیر، دہشتگردی اور سندھ طاس معاہدہ شامل ہیں، پر پیشرفت کے لیے اپنی توجہ اور کردار جاری رکھے گا۔

انہوں نے بھارت پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کیے، خاص طور پر امریکا، کینیڈا اور دیگر ممالک میں بھارتی ایجنسیوں کی مبینہ دہشتگردانہ کارروائیوں اور غیر قانونی ہلاکتوں کو عالمی برادری کی توجہ اور احتساب کا متقاضی قرار دیا۔

گفتگو کے اختتام پر سفیر پاکستان نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک پاکستان ہے، اور وہاں امن و استحکام نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کو وسط ایشیائی ممالک سے معاشی طور پر جوڑنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ