سنی اتحاد کونسل کا انتخابی نشان کیا اور صاحبزادہ حامد رضا نے آزاد الیکشن کیوں لڑا؟وکیل فیصل صدیقی نے آئینی بنچ کو بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آئینی بنچ میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں وکیل سنی اتحاد کونسل فیصل صدیقی نے جسٹس مسرت ہلالی کے سوال ’’سنی اتحاد کونسل کا انتخابی نشان کیا اور صاحبزادہ حامد رضا نے آزاد الیکشن کیوں لڑا؟کا جواب دیدیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ آئینی بنچ میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی، دوران سماعت سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے کہاکہ کچھ فریقین نے اضافی گزارشات جمع کرا دی ہیں،مجھے ان کی نقول آج ملی ہیں اب ان کو دیکھوں گا، جسٹس جمال مندوخیل نے مسلم لیگ ن کے وکیل سے استفسار کیا کہ ایک جماعت کے امیدواروں کو آزادکیسے ڈکلیئر کردیاگیا؟کیا آپ نے اپنی تحریری گزارشات میں اس کا جواب دیا ؟وکیل حارث عظمت نے کہا کہ میں نے جواب دینے کی کوشش کی ہے،فیصل صدیقی نےکہاکہ کچھ درخواستوں میں سپریم کورٹ رولز کو مدنظر نہیں رکھا گیا، فیصل صدیقی نے استدعا کی کہ ان درخواستوں کو مستر کیا جائے، مجھ سے پوچھا گیا تھا سنی اتحاد کونسل کاانتخابی نشان کیا ہے،سنی اتحاد کونسل کا انتخابی نشان گھوڑا ہے لیکن حامد رضا آزاد لڑے،حامد رضا آزاد کیوں لڑے اس کا جواب دوں گا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ ہمارے سامنے یہ معاملہ نہیں کون کیسے لڑا، جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ میرا سوال تھا مجھے اس کا تسلی بخش جواب نہیں ملا، صاحبزادہ حامد رضا کی 2013سے سیاسی جماعت موجود ہے،جو جماعت الیکشن لڑے وہی پارلیمانی پارٹی بناتی ہے،وہ اپنی جماعت سے نہیں لڑے پھر پارلیمانی پارٹی کیوں بنائی؟مخصوص نشستوں کے فیصلے میں کہا گیا ووٹ بنیادی حق ہے،فیصلے میں 3دن کو بڑھا کر 15دن کرنا آئین دوبارہ تحریر کرنے جیساتھا۔
وفاقی بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں مزید ردو بدل کا امکان
وکیل فیصل صدیقی نے کہاکہ 11ججز نے آزادامیدواروں کو پی ٹی آئی کا تسلیم کیا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ 39امیدواروں کی حد تک میں اور قاضی فائز عیسیٰ بھی 8ججز سے متفق تھے،جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی پی ٹی آئی کو پارٹی تسلیم کیا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی کہا پی ٹی آئی نشستوں کی حقدار ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سنی اتحاد کونسل کا فیصل صدیقی نے نے کہاکہ
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز