سی سی پی کا گمراہ کن اشتہارات پر کنگڈم ویلی کو 150 ملین روپے جرمانہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سی سی پی کے مطابق کمپٹیشن کمیشن کے مشاہدہ میں آیا تھا کہ صارفین کو گمراہ کرنے کے لئے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی نے اشتہارات میں حکومت سے منظور شدہ اور نیا پاکستان ہاوٴسنگ پروگرام میں رجسٹرڈ ہونے کا غلط دعوی کیا۔
کمیشن کے ازخود نوٹس کے تحت کی گئی تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا کہ کمپنی نے اپنے رہائشی منصوبے کو کنگڈم ویلی اسلام آباد کے طور پر مشتہر کیا حالانکہ یہ منصوبہ درحقیقت موضع چھورہ، تحصیل و ضلع راولپنڈی میں واقع ہے۔
مزید تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ کنگڈم ویلی نے اپنے منصوبے کو غلط طور پر نیا پاکستان ہاوٴسنگ پروگرام اور نیا پاکستان ہاوٴسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے وابستہ ظاہر کر کے صارفین کو گمراہ کیا، اس کے علاوہ، کمپنی نے اپنے منصوبے کو “این او سی منظور شدہ قرار دیا جبکہ مشروط منظوری کی شرائط کی وضاحت نہیں کی گئی ۔
کیس کا جائزہ لینے کے بعد کمیشن کے ممبران سعید احمد نواز اور عبدالرشید شیخ پر مشتمل بینچ نے قرار دیا کہ کمپنی نے مسابقتی ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صارفین کو جھوٹی یا گمراہ کن معلومات کی فراہم کیں اور انہیں گمراہ کیا۔ کمپٹیشن کے قانون کی اس خلاف ورزی مجموعی طور پر 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا کمیشن نے یہ بھی نوٹ کیا کہ کنگڈم ویلی پرائیویٹ لمٹیڈ نے کمپنی نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں کئی سال سے مالیاتی حسابات، گوشوارے جمع نہیں کروائے جو اس کی شفافیت اور مالیاتی گورننس پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔
صارفین کے مفادات کے تحفظ اور خصوصاً رئیل اسٹیٹ اور ہاوٴسنگ سیکٹر میں درست فیصلے کرنے میں مدد دینے کے لیے ضروری ہے کہ کمپنیاں اپنی مارکیٹنگ اور اشتہارات میں درست اور سچائی پر مبنی معلومات فراہم کریں، کمپٹیشن کمیشن کی عوام سے اپیل ہے کہ گمراہ کن اشتہارات یا مارکیٹ میں مسابقت مخالف سرگرمیوں جیسے کی قیمتوں کو گٹھ جوڑ بنا کو فکس کرنا اور کارٹل کی شکایات اور اطلاع کمپی ٹیشن کمیشن کے واٹس ایپ پر دیں۔
پاکستان کی خاطر گیو اینڈ ٹیک کیلئے تیار ہوں، عمران خان
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کمیشن کے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔