بانی پی ٹی آئی 9 مئی کی کس بات پر معافی مانگیں؟ علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ کہا گیاہے کہ بانی 9 مئی کی معافی مانگ لیں، بانی 9 مئی کی کس بات پر معافی مانگیں؟
نجی ٹی وی دنیا نیور کے مطابق انہوں نے کہا کہ بانی کا موقف رول آف لا اور آئین و قانون کی بالادستی ہے، بانی ہر بار واضح کرتے ہیں کہ کوئی ڈیل نہیں کررہا، 9مئی کے بعد اصل چیز 26ویں ترمیم ہے، انہوں نے 26ویں ترمیم کیوں کی؟
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بانی نے وجوہات واضح کی ہیں، انتخابات میں دھاندلی ہوئی، 26ویں آئینی ترمیم ن لیگ لے کر آئی، عدلیہ نے اپنا کردار ایگزیکٹو کے ماتحت کردیا، سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی گئی۔
علیمہ خان نے بتایا کہ آپ نے عدلیہ کو کمپرومائزڈ کردیا، بانی کے کیسز ہی نہیں لگائے جارہے، جب ججز کیس سنیں گے اورانصاف دیں گے تب ہی بانی باہر نکلیں گے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ن لیگ اورپیپلزپارٹی کا دل ہے کہ پی ٹی آئی کی مخصوص نشستیں ان کے حوالے کردی جائیں۔
لاہور میں مبینہ پولیس مقابلہ ، خاتون سے زیادتی میں ملوث تین ڈاکو ہلاک
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔