دیامر بھاشا ڈیم بننے سے بجلی سستی ہو گی یا نہیں؟ حکومت کا حیران کن اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہےکہ دیامر بھاشا ڈیم سے پانی کی دستیابی بڑھے گی مگر سستی بجلی کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔
اسلام آباد میں بجلی کے شعبے میں تبدیلیوں پر ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ حکومت سستی اور دستیاب بجلی بڑھانے کی کوشش کررہی ہے اور اس سلسلے میں حکومت کو تمام ترقیاتی پارٹنرز کا تعاون دستیاب ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو بجلی کی خرید و فروخت سے نکالا جا رہا ہے، اس بات کو یقینی بنائیں گےکہ نجکاری سےصارفین کی مشکلات میں اضافہ نہ ہو۔
اویس لغاری کا کہنا تھا کہ دیامر بھاشا ڈیم سے بجلی پیداوار کے لیے فنانسنگ دستیاب نہیں ہو رہی، ڈیم سے پانی کی دستیابی بڑھے گی مگر بھاشا ڈیم سے سستی بجلی کا حصول ممکن نہیں ہوگا جب کہ بھاشا ڈیم کی بجلی مہنگی بھی ہوگی۔
وزیر توانائی نے مزید کہا کہ 3 یا4 سال میں پاور سیکٹر لاسز کو ختم کرنا چاہتے ہیں، حکومت کے پاس گرڈ کی مکمل معلومات بروقت نہیں ہوتیں، پاکستان کو بنیادی لوڈ کے لیے کوئلہ اور گیس سے بجلی پیداوار بڑھانا ہوگی۔
اویس لغاری نے کہا کہ بلوچستان میں ٹیوب ویلزکو شمسی توانائی پرلانے سے سالانہ 60 ارب روپے کی بچت ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اویس لغاری بھاشا ڈیم نے کہا ڈیم سے کہا کہ
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔