ایک سال میں صنعتی شعبے کا ٹیرف 30 فیصد کم کیا ہے: اویس لغاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
— فائل فوٹو
وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ ایک سال میں صنعتی شعبے کا ٹیرف 30 فیصد کم کیا ہے، کوشش ہے پاور ٹیرف میں پائیدار بنیاد پر کمی کی جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ اصلاحات کے ذریعے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے، پاکستان میں متبادل ذرائع توانائی کا انقلاب آ چکا۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کےالیکٹرک کے ٹیرف فیصلے پر دوبارہ جائزے کے لیے نیپرا میں جارہے ہیں، کمپنیوں کو کارکردگی سے پیسے کمانے چاہیں، خیرات سے نہیں۔
عالمی بینک نے پاکستان میں اضافی درآمدی ٹیرف کو صنعتی ترقی اور برآمدات کےلیے بڑی رکاوٹ قرار دے دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم نیپرا کی طرف سے کےالیکٹرک کے ٹیرف فیصلے کاجائزہ لے رہے ہیں، سمجھتے ہیں کہ اس میں گنجائش نکلے گی۔ نیٹ میٹرنگ سے متعلق کابینہ کی ہدایت کی روشنی میں از سر نو جائزہ لے رہے ہیں۔
اس سے قبل وفاقی وزیر توانائی نے بجلی کے شعبے میں تبدیلیوں پر ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سستی اور دستیاب بجلی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت کو اس سلسلے میں تمام ترقیاتی پارٹنرز کا تعاون دستیاب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو بجلی کی خرید و فروخت سے نکالا جا رہا ہے، دیامر بھاشا ڈیم سے بجلی پیداوار کے لیے فنانسنگ دستیاب نہیں ہو رہی ہے۔ ڈیم سے پانی کی دستیابی بڑھے گی۔ بھاشا ڈیم سے سستی بجلی کا حصول ممکن نہیں ہو گا بلکہ بھاشا ڈیم کی بجلی مہنگی ہو گی۔ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ نجکاری سے صارفین کی مشکلات میں اضافہ نہ ہو۔
اویس لغاری کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس گرڈ کی مکمل معلومات بروقت نہیں ہوتی، پاکستان کو بنیادی لوڈ کے لیے کوئلہ اور گیس سے بجلی پیداوار بڑھانا ہو گی، 3 - 4 سال میں پاور سیکٹر لاسز کو ختم کرنا چاہتے ہیں، بلوچستان میں ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر لانے سے سالانہ 60 ارب روپے کی بچت ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ اویس لغاری
پڑھیں:
ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیاازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ بخیتار سیدوف کو پیش کردیں۔
مدثر ٹیپو کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے اعزاز ہے کہ انہوں نے وزیرخارجہ سے ملاقات میں یہ اسناد پیش کیں۔
ازبک وزیر خارجہ بختیار سیدوف کا کہنا تھا کہ ملاقات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔