اپنا میٹر اپنی ریڈنگ ،اووربلنگ کے خاتمے کیلئے حکومت کا نئی اسکیم شروع کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
اپنا میٹر اپنی ریڈنگ ،اووربلنگ کے خاتمے کیلئے حکومت کا نئی اسکیم شروع کرنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 29 May, 2025 سب نیوز
اسلام آ باد(سب نیوز)حکومت نے بجلی کی اوور بلنگ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے اپنا میٹر اپنی ریڈنگ اسکیم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پاور)کا اجلاس ہوا، جس میں رکن رانا محمد حیات نے سوال اٹھایا کہ کیا آئندہ مالی سال میں بجلی ٹیرف میں مزید کمی ہو گی؟، جس پر چیئرمین نیپرا نے جواب دیا کہ فی الحال بجلی کا ریٹ اتنا ہی رہنے کا امکان ہے۔
رانا محمد حیات نے کہا کہ صنعتی شعبے کو 30 فیصد ریلیف دیا گیا ہے جب کہ زرعی شعبے کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ، جس پر سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ صنعتی شعبے کو ریلیف کراس سبسڈی ختم کرنے کے باعث حاصل ہوا ۔ بجلی شعبے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ دوران اجلاس راجا قمر الالسلام نے کہا کہ اجلاس پاور کمیٹی کا ہے مگر مجھے پیٹرولیم ڈویژن کے منٹس ملے ہیں۔
جنید اکبر نے کہا کہ میں نے 4 ماہ قبل آفر کی تھی کہ میں کنڈا اتروانے کے لیے خود جاں گا۔ ہم تعاون کرتے ہیں مگر ان سے لائن لاسز کم نہیں ہو رہے جب کہ صارف کو آٹھ آٹھ گھنٹے بجلی نہیں ملتی۔ کام یہ نہیں کرتے اور گالیاں ہم کھاتے ہیں۔سی ای او پیسکو نے کمیٹی میں کہا کہ ان کے علاقے میں ان کے تعاون سے بہت بہتری آئی ہے، آئندہ ماہ سے مزید بہتری ہوگی۔
وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہا کہ ریلیف ماہانہ بنیاد پر دیا جائے ۔ متعلقہ ایس ڈی او کی ڈیوٹی لگائیں اور ریلیف ماہانہ بنیادوں پر فراہم کریں۔ سبسڈی کے اصل حق داروں کو ریلیف دے رہے ہیں۔اویس لغاری نے اس موقع پر بتایا کہ 100 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کے لیے 56 فیصد بجلی سستی کی ہے۔ 101 سے 200 تک استعمال کرنے والے صارفین کے لیے 48 فیصد بجلی سستی کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ اوور بلنگ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے وزیر اعظم جلد اسکیم کا اعلان کریں گے۔ صارفین کو اپنی بلنگ کا اختیار دے رہے ہیں اور اس سلسلے میں اپنا میٹر اپنی ریڈنگ کے نام سے اسکیم کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔ صارفین اپنے موبائل سے میٹر کی ریڈنگ کر کے ایپ پر بھیج سکیں گے۔
وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ سبسڈی کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے صارفین سے جوڑ رہے ہیں۔ حکومت کا بجلی کے سلیبز کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بھی ڈیٹا درست کرنے کی ضرورت ہے۔ آئی پی پی کے معاہدے ختم کرکے عوام کو 3400 ارب روپے کا فائدہ دیا۔ بجلی سستی کرنے کا سفر شروع کر چکے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان پوسٹ میں اشتہار سے زائد بھرتیاں، پبلک اکاونٹس کمیٹی نے معاملہ نیب کو بھجوا دیا پاکستان پوسٹ میں اشتہار سے زائد بھرتیاں، پبلک اکاونٹس کمیٹی نے معاملہ نیب کو بھجوا دیا بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی 2کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 5دہشتگرد ہلاک ایکٹ الائنس پاکستان کا تمباکو ٹیکس پالیسی میں بیرونی مداخلت پر اظہار تشویش ڈی جی ایکسائز عرفان نواز میمن کی غیر نمونہ نمبر پلیٹس کے خلاف سخت کریک ڈاون کی ہدایت شہر اقتدار میں ملاوٹ مافیا کیخلاف بڑا کریک ڈائون، 7فوڈ پوائنٹس سیل، 10کو 1 لاکھ 24 ہزار کے جرمانے کراچی کے ساحلی مسائل پر حکومت سندھ اور وفاق کا مشترکہ منصوبے شروع کرنے کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اپنا میٹر اپنی ریڈنگ شروع کرنے کا اعلان نے کہا کہ کرنے کے رہے ہیں کے لیے
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔