وفاقی حکومت نے میڈیا اداروں کے کہ 1 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد کے بقایا جات بروقت تنخواہوں اور کارکنوں کے بقایا جات کی ادائیگوں سے مشروط کر کے میڈیا مالکان کو آگاہ کر دیا ہے. مبشر حسن
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 29 مئی ۔2025 ) وفاقی حکومت 30 جون سے قبل تمام میڈیا اداروں کو 1 ارب 50 کروڑ روپے کے بقایا جات کلیئر کر دے گی لیکن کسی ایسے ادارے کو ایک پائی کی ادائیگی نہیں کرے گی جو عید سے قبل صحافیوں اور میڈیا وکرز کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی نہیں کرے گا.
(جاری ہے)
وفاقی حکومت کے ترجمان پرنسپل انفارمیشن آفیسر مبشر حسن نے جمعرات کے روز پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل شکیل احمد، راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر طارق عثمانی، نائب صدر فیصل اعوان، سیکرٹری اطلاعات مدثر الیاس کیانی اور ایگزیکٹیو ممبر محمد فیاض چوہدری سے ملاقات میں کہا کہ وفاقی حکومت نے میڈیا اداروں کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ کی ادائیگیاں اور کارکنوں کے بقایا جات اور تنخواہوں سے مشرو ط کردی ہیں اور اس سلسلے میں تمام میڈیا مالکان کو پہلے آگاہ کردیا گیا ہے صحافتی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے اداروں جن میں بروقت تنخواہوں اور کارکنوں کے بقایا جات ادا نہیں ہورہے یا کارکنوں کی جبری برطرفیوں کا سلسلہ جاری ہے.
پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل شکیل احمد اور آرآئی یو جے کے صدر طارق عثمانی نے روزنامہ جنگ اور دی نیوز سے جبری طور پر نوکریوں سے نکالے گئے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی برخاستگی کی نشاندہی کی تو پرنسپل انفارمیشن آفیسر مبشر حسن نے بتایا ہے کہ اس سلسلے میں وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات ان کارکنوں کی نوکریوں پر بحالی اور این آئی آر سی کے عدالتی فیصلون پر عملدآمد کروانے کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کریگی اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت نے روزنامہ جنگ اور دی نیوز کی انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے جلد اس ایشو پر پیش رفت ہوگی. انہوں نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی قیادت کو یقین دلایا کہ وزارت اطلاعات جنگ، نیوز کے برطرف ملازمین کی بحالی میں اپنا کردارادا کریگی اس سلسلے میں وفاقی حکومت نے روزنامہ جنگ اور دی نیوز کی انتظامیہ سے رابطہ سے رابطہ کیا ہے جب پی آئی او کے نوٹس میں لایا گیا کہ ہمیشہ بڑے اخبارات کے بقایا توکلیئر کردئے جاتے ہیں لیکن ریجنل اور چھوٹے اخبارات کو ادائیگیاں تاخیر سے کی جاتی ہیں. انہوں نے کہا کہ اب ایسی شکایت نہیں آئے گی پی آئی ڈی کے اکاﺅنٹس ڈیپارٹمنٹ کو برابری کی سطح پر ادائیگیوں کی ہدایت دی گئی ہے مبشر حسن نے کہا کہ ورکنگ جرنلسٹس اور میڈیا ورکرز کی تنخواہوں،بقایاجات کی ادائیگیوں کو اشتہارات اور بقایا جات کی ادائیگیوں سے مشروط کرنے کے فیصلے پر سختی سے عملدرآمد ہوگا عید سے قبل بھی میڈیا اداروں میں تنخواہوں کی ادائیگیوں پر عمل در آمد کرایاجائے گا.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے یونین آف جرنلسٹس وفاقی حکومت نے میڈیا اداروں کے بقایا جات اس سلسلے میں
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا