قومی کھیل ہاکی پر بنی سیریز 'شمشیر' کا ٹریلر جاری، کب ریلیز ہوگی؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
پاکستان کے قومی کھیل ہاکی پر مبنی اوریجنل ڈرامہ سیریز "شمشیر" کا ٹریلر ریلیز کردیا گیا۔
تھرلر سے بھرپور اس ویب سیریز کا ٹریلر مقامی ہوٹل میں ایک پروقار تقریب کے دوران ریلیز کیا گیا۔ اس موقع پر شوبز، کھیل اور میڈیا سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب میں ویب سیریز کے مرکزی اداکار فرحان سعید، حریم فاروق، بہروز سبزواری اور عمر عالم شریک ہوئے، اس ویب سیریز کو نینا کاشف نے پروڈیوس کیا ہے جبکہ اسکے ڈائریکٹر شہرزادے شیخ ہیں۔
پاکستان کی ہاکی ٹیم کے سابقہ اور موجودہ کھلاڑیوں قمر ابراہیم، سمیر حسین اور کپتان امجد بٹ کی موجودگی نے تقریب چار چاند لگا دیئے۔ ٹریلر کی ریلیز کے بعد ہاکی اور پاکستانی ثقافتی ورثے پر ایک مفصل پینل ڈسکشن بھی منعقد ہوئی، جس میں ہاکی سے جڑی قومی شناخت اور یادگار لمحات کو اجاگر کیا گیا۔
View this post on InstagramA post shared by tapmad (@tapmad.
ویب سیریز میں ہیرو کا کردار ادا کرنے والے اداکار و گلوکار فرحان سعید نے کہا کہ یہ سیریز ہاکی کے کھیل کو نئی زندگی دے سکتی ہے، جبکہ حریم فاروق نے کہا کہ اس سیریز سے قبل انہیں معلوم نہیں تھا کہ پاکستان اس کھیل میں اتنی کامیابیاں حاصل کر چکا ہے انہوں نے ہاکی کے کھیل کیلئے سیریز کی اہمیت کو سراہا۔
یاد رہے کہ شمشیر کو 13 جون 2025 کو ریلیز کیا جائے گا یہ سیریز اسٹریمنگ سائٹ ٹیپ میڈ پر دستیاب ہوگی۔
View this post on InstagramA post shared by tapmad (@tapmad.entertainment)
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویب سیریز
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔