معروف کامیڈین جونی لیور نے ’ہیرا پھیری 3‘ سے پریش راول کی علیحدگی پر بات کرتے ہوئے انہیں نظر ثانی کرنے کا مشورہ دے ڈالا۔

حالیہ دنوں میں جب فلم ’ہیراپھیری3‘ سے پریش راول کی علیحدگی کی خبر سامنے آئی تو مداح کافی حیران ہوئے اور یہ کہتے نظرآئے کہ ان کے بغیر فلم کیسے بنے گی اور ان کا کردار کون ادا کرے گا۔ ایسے میں کئی خبریں سامنے آئیں کہ اداکار پنکج ترپاٹھی بابو راؤ کے کردار میں نظر آئیں گے۔

مگر پنکج ترپاٹھی نے ان افواہوں کو مسترد کر دیا اور پریش راول کے لیے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا ’میں نے پڑھا اور سنا کہ شائقین مجھے بابو بھیا کا کردار کرتے دیکھنا چاہتے ہیں، مگر میں نہیں سمجھتا کہ میں یہ کر سکتا ہوں۔ پریش راول ایک غیر معمولی اداکار ہیں اور میں ان کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ میں ان کا بے حد احترام کرتا ہوں، اور مجھے نہیں لگتا کہ میں اس کردار کے لیے صحیح شخص ہوں‘۔

یہ بھی پڑھیں: پریش راول کی چھٹی، ’ہیرا پھیری 3‘ میں بابو راؤ کا کردار کون سا اداکار ادا کرے گا؟

اس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ اکشے کمار فلم اعتماد توڑنے کے الزام میں پریش راول پر مقدمہ دائر کرنے جا رہے ہیں۔ اب مزاحیہ اداکار جونی لیور نے اس تنازع پر اپنی رائے دیتے ہوئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پریش راول کو اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنا چاہیے اور فلم میں واپس آنا چاہیے۔

جونی لیور کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ پریش راول کو یہ فلم کر لینی چاہیے۔ اگر کوئی مسئلہ ہے تو بیٹھ کے بات کریں اور معاملہ حل کریں کیونکہ فینز پریش راول کو فلم میں بہت مس کریں گے اور ان کے بغیر ویسا مزہ نہیں آئے گا۔ اس لیے بات کر کے حل نکال لیں یہی صحیح ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہیرا پھیری 3 میں سنجے دت کون سا انوکھا کردار ادا کریں گے؟

واضح رہے کہ فلم ہیرا پھیری 3 کی شوٹنگ سے پہلے ہی کئی مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ شائقین بہت خوش تھے کہ اکشے کمار، سنیل شیٹی اور پریش راول ایک بار پھر اپنی مشہور ٹرائیو کی صورت میں واپس آ رہے ہیں۔ لیکن اچانک پریش راول کے فلم چھوڑنے کی خبر نے سب کو حیران کر دیا۔

اس کے بعد اکشے کمار کی پروڈکشن کمپنی نے پریش راول پر 25 کروڑ روپے کا دعویٰ کیا۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ پریش نے 30 جنوری کو سوشل میڈیا پر فلم کا حصہ بننے کا اعلان کیا تھا اور 27 مارچ کو باقاعدہ معاہدہ پر دستخط کیے تھے۔ اس کے بعد کمپنی نے فلم کی تیاری(ٹیزر شوٹ اور ابتدائی سینز) پر بہت خرچ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اکشے کمار بالی ووڈ پریش راول جونی لیور ہیرا پھیری 3.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اکشے کمار بالی ووڈ پریش راول جونی لیور ہیرا پھیری 3 پریش راول کی ہیرا پھیری 3 جونی لیور اکشے کمار

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف