— فائل فوٹو

کیمبرج کے امتحانی پرچے آؤٹ ہونے کا معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے اٹھا لیا ہے اور اس معاملے پر ایک ذیلی کمیٹی قائم کردی ہے۔ 

جمعہ کو چیئرمین قائمہ کمیٹی ڈاکٹر عظیم الدین زاہد کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں فیصل آباد کے رکن قومی اسمبلی محمد علی سرفراز نے اجلاس کے شرکاء کو کیمبرج کے آؤٹ ہونے والے حالیہ 4 پرچوں کے ثبوت پیش کئے اور ویڈیو بھی دکھا دی۔

انہوں نے کہا کہ پرچے لیک ہونے کا فائدہ کچھ طلبہ نے اٹھایا اور اکثریت محروم رہی۔ ایسے پرچوں کی کیمبرج ایورج مارکنگ کرتا ہے یا اسکول کے نتائج کی بنیاد پر نمبر دیتا ہے۔ 

اجلاس میں تجویز دی گئی کہ لیک پرچوں کے امتحان دوبارہ جولائی میں کرائیں یا تھریش ہولڈ کو کم کردیں تاکہ سارے طلبہ کو فائدہ مل سکے۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں زیب جعفر، ڈاکٹر حلیم اور دیگر اراکین اسمبلی نے کیمبرج کی کارکردگی پر نکتہ چینی کی اور کیمبرج کی کنٹری ڈائریکٹر عظمیٰ یوسف سے کئی تنقیدی سوالات کیے گئے۔

پرچہ آؤٹ کی تحقیقات میں نظر انداز کرنے پر آئی بی سی سی کیمرج پر برہم، فوری جواب طلب

آئی بی سی سی کے ڈائریکٹر عمار حسین گیلانی نے کیمبرج انٹرنیشنل کی ملکی ڈائریکٹر عظمیٰ یوسف کو خط لکھ دیا

عظمیٰ یوسف نے کہا کہ کیمبرج کے امتحانی پرچے لیک ہونے کی محض افواہیں ہیں ہم 160 ممالک میں امتحانات لیتے ہیں تاہم ہم 16 جون تک پرچے لیک ہونے کی تحقیقات مکمل کرلیں گے۔ 

اس موقع پر وفاقی سیکریٹری وزارت تعلیم ندیم محبوب نے کہا کہ کیمبرج اور دیگر غیر ملکی بورڈ آئی بی سی سی سے ڈیل کرتا ہے اور کیمبرج ان کو جواب دہ ہے۔

آئی بی سی سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا کہ کیمبرج ہمیں بیشتر معاملات میں اعتماد میں نہیں لیتا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک برٹش کونسل امتحانی پرچے لیتا تھا تو پرچے لیک نہیں ہوتے تھے تاہم جب اسکولوں کو آزادانہ اور براہ راست امتحانات کی اجازت دی گئی تو پرچے آؤٹ ہونے کا سلسلہ شروع ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ کہ سابق سیکریٹری محی الدین وانی کے دور میں آئی بی سی سی کو نظر انداز کرتے ہوئے بیکن ہاؤس کو آزادانہ امتحانات اپنے اسکولوں میں لینے کی اجازت دی گئی جبکہ آزادانہ امتحانات کی صورت میں کیمبرج کو فیس میں کمی کرنی تھی لیکن فیس کم نہیں کی گئی۔ 

اس موقع پر اجلاس کے شرکاء نے کیمبرج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیمبرج پاکستان سے امتحانات کی مد میں اربوں روپے کماتا ہے۔ 

کیمبرج کی پاکستانی ڈائریکٹر عظمیٰ یوسف نے سرکاری تعلیمی بورڈز کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سرکاری بورڈز کی خراب کارکردگی کی وجہ سے طلبہ کیمبرج کا رخ کرتے ہیں جس پر چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کہا کہ یہ بات غلط ہے۔ وفاقی تعلیمی بورڈ اور چند دیگر بورڈز اچھے اور ان کی کارکردگی مثالی ہے۔

اس موقع پر کیمبرج کی کارکردگی اور پرچہ آؤٹ ہونے کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے رکن اسمبلی سبین کی سربراہی میں ایک سب کمٹی قائم کی گئی جس میں زیب جعفر، محمد علی سرفراز ، ڈاکٹر علیم، ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی بی سی سی اور دیگر رکن ہوں گے۔ یہ کمیٹی کیمبرج کی ڈائریکٹر عظمیٰ کو بھی اجلاس میں بلائے گی جس کا اجلاس 16 جون کے بعد ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ڈائریکٹر عظمی کہا کہ کیمبرج کی کارکردگی کیمبرج کی کیمبرج کے اجلاس میں نے کہا کہ آؤٹ ہونے پرچے لیک ہونے کا

پڑھیں:

جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت

امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی بدنام زمانہ ’جیفری ایپسٹین فائلز‘ میں بارہا نام آنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد فرانس میں اپنے گھر میں مردہ پائے گئے ہیں۔

فرانسیسی پراسیکیوٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا، جبکہ ان کے خلاف جاری فوجداری تحقیقات بھی ان کی وفات کے باوجود جاری رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز کا نیا حصہ جاری، ٹرمپ سے متعلق الزامات پر مبنی ایف بی آئی انٹرویوز کی دستاویزات منظر عام پر

پراسیکیوٹرز کے مطابق 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے میں واقع ان کے گھر سے پیر کی شام برآمد ہوئی۔ ابتدائی طور پر ان کی موت کی وجہ سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی، تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔

وکیل کا دعویٰ، موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی

ڈینیئل سیاد کی وکیل، مینیا عرب تیگرین نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کا انتقال دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوا۔ بعض فرانسیسی میڈیا اداروں نے بھی ابتدائی اطلاعات کے حوالے سے یہی امکان ظاہر کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ان کی لاش گھر کے کچن سے ایک خاتون نے دیکھی، جو اس وقت ان کے ساتھ رہ رہی تھیں، جبکہ ایک پڑوسی نے انہیں بچانے کے لیے ‘سی پی آر’ بھی کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔

ایپسٹین فائلز کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوا

فرانسیسی حکام نے رواں سال فروری میں انسانی اسمگلنگ اور ٹیکس فراڈ سے متعلق وسیع تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے ایپسٹین فائلز جاری ہونے کے بعد سامنے آنے والی معلومات کے تناظر میں کی گئی۔

مزید پڑھیں:ایپسٹین فائلز: بینک آف امریکا متاثرہ خواتین کیس میں تصفیے پر مجبور

پیرس کی پراسیکیوٹر لور بیکو نے بتایا کہ تحقیقات شروع ہونے کے بعد اب تک 24 خواتین خود کو متاثرہ یا گواہ کے طور پر سامنے لا چکی ہیں، جنہوں نے ڈینیئل سیاد یا دیگر افراد کے خلاف مختلف الزامات سے متعلق بیانات ریکارڈ کرائے۔

نگرانی جاری رہی، مگر گرفتاری کے لیے شواہد ناکافی قرار

پراسیکیوٹرز کے مطابق تحقیقات کے دوران ڈینیئل سیاد کی فون نگرانی سمیت خصوصی تفتیشی اقدامات کیے گئے تھے، تاہم اب تک ایسے شواہد سامنے نہیں آئے تھے جو فوری گرفتاری کے لیے قانونی طور پر کافی سمجھے جاتے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 تفتیش کار اس کیس پر کام کر رہے ہیں اور ڈینیئل سیاد کی وفات کے باوجود تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

سیاد نے تمام الزامات مسترد کیے تھے

فرانسیسی میڈیا کے مطابق کم از کم 5 خواتین نے ڈینیئل سیاد پر ریپ اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے تھے، تاہم انہوں نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی۔

ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ سیاد نے متعدد بار فرانسیسی عدالتی حکام کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنے کی درخواست کی، مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ وکیل کے مطابق ان کے مؤکل آخر وقت تک اپنی بے گناہی پر قائم رہے۔

جیفری ایپسٹین سے تعلق کی وضاحت

ڈینیئل سیاد نے رواں سال مئی میں فرانسیسی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلق صرف پیشہ ورانہ نوعیت کا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو

تاہم امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں دونوں کے درمیان ای میلز بھی شامل تھیں، جن میں ماڈلز سے متعلق گفتگو کا ذکر موجود تھا۔ انہی دستاویزات میں ڈینیئل سیاد کا نام تقریباً 2 ہزار مرتبہ سامنے آیا۔

فرانس میں ایپسٹین سے منسلک دوسرے شخص کی موت

ڈینیئل سیاد فرانس میں ایپسٹین سے تعلق رکھنے والے دوسرے نمایاں فرد ہیں جن کی موت ہوئی ہے۔اس سے قبل فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ ژاں لوک برونیل کو 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ان پر الزام تھا کہ انہوں نے جیفری ایپسٹین کے لیے خواتین فراہم کیں۔ برونیل 2022 میں مقدمے کی سماعت سے قبل جیل کی کوٹھڑی میں مردہ پائے گئے تھے۔ انہوں نے بھی اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کی تھی۔

امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کو کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا تھا۔ وہ 2019 میں نیویارک کی جیل میں ٹرائل سے قبل مردہ پائے گئے تھے، جبکہ سرکاری طور پر ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز نے میری ازدواجی زندگی کی تکلیف دہ یادیں تازہ کر دیں، میلنڈا فرنچ گیٹس

بعد ازاں ان سے متعلق عدالتی دستاویزات اور ‘ایپسٹین فائلز’ منظرِ عام پر آنے کے بعد دنیا بھر میں کئی افراد اور نیٹ ورکس کی سرگرمیاں دوبارہ تحقیقاتی اداروں کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔

ڈینیئل سیاد بھی انہی تحقیقات کے سلسلے میں فرانسیسی حکام کی زیرِ نگرانی تھے، تاہم ان کی وفات کے باوجود متعلقہ تحقیقات جاری رہیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی محکمہ انصاف انسانی اسمگلنگ پراسرار موت جیفری ایپسٹین ڈینیئل سیاد ریپ فائلز فرانس فرانسیسی میڈیا مردہ حالت وکیل

متعلقہ مضامین

  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت