تہذیبوں کا تبادلہ ہی اصل خوبصورتی ہے، چینی نائب صدر
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
تہذیبوں کا تبادلہ ہی اصل خوبصورتی ہے، چینی نائب صدر WhatsAppFacebookTwitter 0 30 May, 2025 سب نیوز
بیجنگ : نائب چینی صدر ہان چنگ نے چین کے شہر ڈون ہوانگ میں تہذیبوں کے تبادلے اور باہمی سیکھنے کے چوتھے مکالمے کی افتتاحی تقریب میں شرکت اور خطاب کیا ۔جمعہ کے روز انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ نے نشاندہی کی ہے کہ تہذیبوں کا تبادلہ ہی اصل خوبصورتی ہے اور ایک دوسرے سے سیکھنا فائدہ مند ہوگا ۔ہمیں مشترکہ طور پر عالمی تہذیبوں کے تنوع کے احترام کی وکالت کرنی چاہیے۔ ہان چنگ نے نشاندہی کی کہ چین تمام ممالک کے ساتھ مل کر کثیرالجہتی پر عمل کرے گا،
گلوبل سیویلائزیشن انیشیٹو کو فعال طور پر نافذ کرے گا، “بیلٹ اینڈ روڈ” کی اعلیٰ معیار کی مشترکہ تعمیر کو مزید مستحکم اور عملی شکل دینے کے لیے فروغ دے گا، اور انسانی تہذیب کی ترقی کیلئے مضبوط تحریک پیدا کرے گا۔بوٹسوانا کی قومی اسمبلی کے اسپیکر کیولاپیٹسے، لاؤ قومی اسمبلی کے وائس چیئرمین سونگ ما اور نیپال کی سابق صدر بھنڈاری سمیت غیر ملکی شخصیات نے کہا کہ چین نے اپنی ترقی سے دنیا کو استحکام اور یقین فراہم کیا ہے اور ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی اور سماجی ترقی کی بھرپور حمایت کی ہے۔
صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ تین گلوبل انیشٹیو نہ صرف مختلف تہذیبوں کے درمیان باہمی افہام و تفہیم ، تبادلوں اور باہمی سیکھنے کو بڑھانے میں مدد دیں گے بلکہ دنیا کے ممالک کے درمیان ہم آہنگی کے ساتھ بقائے باہمی اور جیت جیت کے تعاون کے نئے بین الاقوامی نظام کی تعمیر کے لیے ایک مضبوط بنیاد بھی فراہم کریں گے۔ یقین ہے کہ تین گلوبل انیشٹیو کے مسلسل نفاذ سے مختلف ممالک کے عوام کو مزید ٹھوس فوائد حاصل ہوں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغیرملکی طلباء کے ویزہ منسوخ کرنے سے امریکہ خود کو نقصان پہنچا رہا ہے،چینی میڈیا غیرملکی طلباء کے ویزہ منسوخ کرنے سے امریکہ خود کو نقصان پہنچا رہا ہے،چینی میڈیا عالمی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے یکجہتی کی ضرورت ہے ، چینی وزیر خارجہ چین ہمیشہ بحرالکاہل جزائر ممالک کو اچھا شراکت دار سمجھتا ہے، چینی وزیر خارجہ تاجکستان ،’’وسطی ایشیا کا سفر‘‘نامی تقریب کا انعقاد ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے میں ثالثی کے لیے بین الاقوامی عدالت کے کنونشن پر دستخط کی تقریب کا انعقاد وزارت خزانہ نے نئے بجٹ سے قبل ہی مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔