اسلام آباد(نیوز ڈیسک) مہنگائی سے پریشان عوام کی نظریں اب یکم جون پر جمی ہوئی ہیں، جب حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی۔

شہریوں کی جانب سے سوال کیا جارہا ہے کہ کیا حکومت بجٹ سے قبل مہنگائی کا ایک اور بم گرانے جا رہی ہے یا عوام کو کچھ ریلیف ملے گا؟

میڈیا ذرائع کے مطابق وزارت توانائی اور دیگر متعلقہ ادارے عالمی منڈی کے رجحانات اور ملکی مالیاتی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی پر غور کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 60 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 28 پیسے فی لیٹر تک کی کمی ممکن ہے۔

دوسری جانب مٹی کا تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں معمولی اضافے کا امکان بھی موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ وزارت خزانہ اور وزیراعظم کی مشاورت سے کیا جائے گا۔ وزارت خزانہ قیمتوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے آپشن پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، تاکہ کسی بڑے مالی جھٹکے سے بچا جا سکے۔

ذہن نشین رہے کہ اوگرا کی جانب سے ہر 15 دن بعد پیٹرولیم نرخوں پر نظرثانی کی جاتی ہے، جس میں بین الاقوامی منڈی کے اعداد و شمار اور ملکی مالیاتی پالیسیوں کو مدِنظر رکھا جاتا ہے۔

اگرچہ مجوزہ کمی معمولی ہے، مگر موجودہ مہنگائی کے تناظر میں عوام کیلئے معمولی ریلیف کا باعث بنے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دیتی ہے یا بجٹ سے پہلے مزید بوجھ ان کے کندھوں پر ڈالتی ہے۔ حتمی فیصلہ یکم جون کو سامنے آ جائے گا۔

بجٹ 2025-26:تنخواہوں اور پنشن میں اضافے سےمتعلق اہم خبرآگئی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور