اسرائیل کی حماس کو دھمکی: ‘معاہدہ قبول کرو یا نیست و نابود کر دیا جائے گا’ WhatsAppFacebookTwitter 0 31 May, 2025 سب نیوز

تل ابیب: اسرائیل نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے غزہ میں مغویوں کی رہائی سے متعلق پیش کردہ امریکی معاہدہ قبول نہ کیا تو اسے صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ “حماس کو امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی معاہدہ تسلیم کرنا ہوگا، ورنہ تباہی اس کا مقدر ہوگی۔” انہوں نے مزید کہا کہ اب فیصلہ حماس کے ہاتھ میں ہے، یا معاہدہ قبول کرے یا مکمل تباہی کے لیے تیار رہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے مذکورہ امریکی معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے اس پر رضامندی ظاہر کی ہے جبکہ حماس کی جانب سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر حماس رہنما نے واضح کیا ہے کہ وہ مجوزہ معاہدے کو مسترد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “امریکی معاہدہ نہ تو جنگ کے خاتمے کی ضمانت دیتا ہے، نہ ہی حماس کے بنیادی مطالبات پورے کرتا ہے، اس لیے ہم اسے قبول نہیں کر سکتے۔” ان کے مطابق حماس کی جانب سے اس پر باضابطہ ردعمل آئندہ دنوں میں دیا جائے گا۔

عالمی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ جلد ممکن ہو سکتا ہے۔ “ہم آپ کو آج یا کل اس بارے میں خوشخبری دیں گے”۔

عرب میڈیا کے مطابق مجوزہ معاہدے میں 10 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے 60 روزہ جنگ بندی شامل ہے، جس میں دو مراحل میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی، انسانی امداد کی غیر مشروط فراہمی اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کی ضمانت بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 18 مارچ کو غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ بمباری کا آغاز کیا تھا جس کے نتیجے میں انسانی بحران مزید شدید ہو چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ کی پوری آبادی اس وقت قحط کے خطرے سے دوچار ہے۔

سات اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 54 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ بنیادی سہولیات کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسانحہ 9 مئی کے 11 مقدمات کی سماعت ایک بار پھر بغیر عدالتی کارروائی کے ملتوی سانحہ 9 مئی کے 11 مقدمات کی سماعت ایک بار پھر بغیر عدالتی کارروائی کے ملتوی سعودی عرب نے پاکستان سمیت 14 ممالک کے تمام ویزے بند کر دیے مودی نے خود کو پہلے چائے والا، پھر چوکیدار کہا اور اب سندور بیچ رہے ہیں، ممتا بینرجی غزہ جنگ بندی کا عارضی منصوبہ، پہلے ہفتے 28اسرائیلی قیدی رہا ہونگے نو مئی کیسز ، تحریک انصاف کے رکن اسمبلی کو سزا ، نااہلیت کا بھی سامنا،پی ٹی آئی کا پارلیمنٹ میں نمبر کم ہونا.

.. پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے 5 طیارے مار گرائے، بی جے پی رہنما نے بھی اعتراف کرلیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: معاہدہ قبول دیا جائے گا کرتے ہوئے کے مطابق حماس کو

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم