وفاقی حکومت نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے نان فائلرز پر بینک سے کیش نکلوانے پر عائد ٹیکس کی شرح بڑھانے کی تجویز پیش کر دی ہے ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے یہ تجویز دی ہے کہ اب نان فائلرز اگر ایک دن میں پچاس ہزار روپے سے زائد کیش نکلوانے کی کوشش کریں گے تو ان پر ایک اشاریہ دو فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہو گا جو کہ اس سے قبل صفر اشاریہ چھ فیصد تھا حکومت کا مقصد یہ ہے کہ جو افراد اب تک ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کرواتے ان کے لیے مالیاتی سرگرمیاں اس حد تک مشکل بنا دی جائیں کہ وہ مجبوراً ٹیکس نیٹ میں شامل ہو جائیں اس سلسلے میں حکومت یکم جولائی دو ہزار پچیس سے نان فائلرز کی کیٹیگری ہی ختم کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ کوئی بھی شخص بغیر رجسٹریشن کے کسی قسم کا مالیاتی لین دین نہ کر سکے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور ریونیو نے ٹیکس قوانین میں ترمیم کے لیے پیش کیے گئے بل ٹیکس قوانین ترمیمی بل دو ہزار چوبیس کی رپورٹ بھی منظور کر لی ہے جس کے تحت نان فائلرز کی معاشی سرگرمیوں پر مزید سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی اور یہ تمام اقدامات آئندہ مالی سال کے بجٹ فنانس بل دو ہزار پچیس چھبیس کے ذریعے نافذ کیے جائیں گے واضح رہے کہ فنانس ایکٹ دو ہزار تئیس کے تحت یہ شرط دوبارہ متعارف کروائی گئی تھی کہ جو افراد ایف بی آر کی ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل نہیں وہ اگر ایک دن میں پچاس ہزار روپے سے زیادہ کیش نکلوائیں تو ان پر مکمل رقم پر ایڈوانس ایڈجسٹ ایبل ٹیکس لاگو ہو گا اب اسی شرح کو دگنا کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ نان فائلرز کی مالی آزادی محدود کی جا سکے

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: نان فائلرز کے لیے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان