نان فائلرز کے لیے بینک سے کیش نکلوانا مزید مہنگا ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
وفاقی حکومت نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے نان فائلرز پر بینک سے کیش نکلوانے پر عائد ٹیکس کی شرح بڑھانے کی تجویز پیش کر دی ہے ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے یہ تجویز دی ہے کہ اب نان فائلرز اگر ایک دن میں پچاس ہزار روپے سے زائد کیش نکلوانے کی کوشش کریں گے تو ان پر ایک اشاریہ دو فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہو گا جو کہ اس سے قبل صفر اشاریہ چھ فیصد تھا حکومت کا مقصد یہ ہے کہ جو افراد اب تک ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کرواتے ان کے لیے مالیاتی سرگرمیاں اس حد تک مشکل بنا دی جائیں کہ وہ مجبوراً ٹیکس نیٹ میں شامل ہو جائیں اس سلسلے میں حکومت یکم جولائی دو ہزار پچیس سے نان فائلرز کی کیٹیگری ہی ختم کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ کوئی بھی شخص بغیر رجسٹریشن کے کسی قسم کا مالیاتی لین دین نہ کر سکے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور ریونیو نے ٹیکس قوانین میں ترمیم کے لیے پیش کیے گئے بل ٹیکس قوانین ترمیمی بل دو ہزار چوبیس کی رپورٹ بھی منظور کر لی ہے جس کے تحت نان فائلرز کی معاشی سرگرمیوں پر مزید سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی اور یہ تمام اقدامات آئندہ مالی سال کے بجٹ فنانس بل دو ہزار پچیس چھبیس کے ذریعے نافذ کیے جائیں گے واضح رہے کہ فنانس ایکٹ دو ہزار تئیس کے تحت یہ شرط دوبارہ متعارف کروائی گئی تھی کہ جو افراد ایف بی آر کی ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل نہیں وہ اگر ایک دن میں پچاس ہزار روپے سے زیادہ کیش نکلوائیں تو ان پر مکمل رقم پر ایڈوانس ایڈجسٹ ایبل ٹیکس لاگو ہو گا اب اسی شرح کو دگنا کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ نان فائلرز کی مالی آزادی محدود کی جا سکے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نان فائلرز کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔