اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ؟ ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کردی
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ جلد طے پاسکتا ہے، اور انہیں اس پیش رفت کی امید ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس ممکنہ امن معاہدے کا ذکر بڑے اعتماد سے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے اور معاہدہ جلد طے پانے کے امکانات روشن ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ امریکا ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے حوالے سے معاہدے کے قریب ہے۔
ٹرمپ نے معاشی محاذ پر بھی کئی اہم اعلانات کیے۔ انہوں نے درآمد شدہ اسٹیل پر ٹیرف 50 فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ کیا اور واضح کیا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ سے تجارت اور ٹیرف کے معاملات پر بات کریں گے۔ ان کے بقول، امریکا اور چین کے درمیان موجودہ اختلافات جلد ختم ہو سکتے ہیں۔ ٹیرف پر قانونی لڑائی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا اس جنگ میں فتح حاصل کرے گا۔
تعلیم کے حوالے سے بھی ٹرمپ نے ایک نرم موقف اختیار کیا۔ اگرچہ ان کی ہارورڈ یونیورسٹی کے ساتھ قانونی محاذ آرائی جاری ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ غیر ملکی طلبا امریکا میں تعلیم حاصل کریں، اور فی الحال انہیں ملک سے نکالنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
مگر معاملہ صرف بیانات تک محدود نہیں۔ غزہ میں حالات اب بھی کشیدہ ہیں، اور وہاں کی مزاحمتی تنظیم حماس نے جنگ بندی کی امریکی تجویز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ حماس کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن کی تجویز ان کے بنیادی مطالبات، بشمول جنگ کا خاتمہ، پورے نہیں کرتی، لہٰذا یہ معاہدہ ان کے لیے قابل قبول نہیں۔
دوسری جانب، اسرائیل نے روایتی سخت لہجہ اپناتے ہوئے حماس کو واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق معاہدے کو تسلیم نہ کیا تو اسے ’’صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا‘‘۔ یہ بیان اسرائیلی قیادت کی طرف سے ایک بار پھر اس تنازعے کو حل کرنے کے بجائے دھمکی آمیز پالیسی اپنانے کی عکاسی کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔