اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کب تک ممکن ہے؟ ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑا دعویٰ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ جلد طے پانی کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اس پیشرفت کی امید ہے۔
اوول میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدہ جلد طے پانے کے امکانات روشن ہیں اور مذاکرات میں پیشرفت ہورہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں غزہ جنگ بندی: حماس اور امریکا معاہدے کے مسودے پر متفق ہوگئے
امریکی صدر نے کہاکہ ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے حوالے سے معاہدہ بہت جلد ہو جائےگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے معیشت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ چینی صدر شی جن پنگ سے تجارت اور ٹیرف کے معاملات پر بات چیت کی جائےگی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور چین کے درمیان اختلاف جلد ختم ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر نے کہاکہ غیرملکی طلبہ کو ملک سے نکالنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہ یہاں تعلیم حاصل کریں۔
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج اور حماس کے درمیان لڑائی 7 اکتوبر 2023 سے اب تک جاری ہے، اس دوران اسرائیلی فوج کی بمباری میں اب تک 54 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
گزشتہ دنوں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حماس اور امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف جنگ بندی کے معاہدے پر متفق ہوگئے۔
عرب میڈیا نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان مجوزہ معاہدے میں 10 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے، جس کے بدلے میں 60 فلسطینیوں کو رہا کیا جائےگا۔
یہ بھی پڑھیں حماس اسرائیل جنگ بندی معاہدہ، سعودی عرب کا خیر مقدم، غزہ میں جشن
عرب میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کی ضمانت دی جائےگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسرائیلی فوج امریکی صدر ایران جنگ بندی معاہدہ جوہری پروگرام ڈونلڈ ٹرمپ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج امریکی صدر ایران جنگ بندی معاہدہ جوہری پروگرام ڈونلڈ ٹرمپ وی نیوز حماس کے درمیان اسرائیلی فوج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔