امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ جلد طے پانی کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اس پیشرفت کی امید ہے۔

اوول میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدہ جلد طے پانے کے امکانات روشن ہیں اور مذاکرات میں پیشرفت ہورہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں غزہ جنگ بندی: حماس اور امریکا معاہدے کے مسودے پر متفق ہوگئے

امریکی صدر نے کہاکہ ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے حوالے سے معاہدہ بہت جلد ہو جائےگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے معیشت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ چینی صدر شی جن پنگ سے تجارت اور ٹیرف کے معاملات پر بات چیت کی جائےگی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور چین کے درمیان اختلاف جلد ختم ہو سکتے ہیں۔

امریکی صدر نے کہاکہ غیرملکی طلبہ کو ملک سے نکالنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہ یہاں تعلیم حاصل کریں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج اور حماس کے درمیان لڑائی 7 اکتوبر 2023 سے اب تک جاری ہے، اس دوران اسرائیلی فوج کی بمباری میں اب تک 54 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

گزشتہ دنوں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حماس اور امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف جنگ بندی کے معاہدے پر متفق ہوگئے۔

عرب میڈیا نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان مجوزہ معاہدے میں 10 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے، جس کے بدلے میں 60 فلسطینیوں کو رہا کیا جائےگا۔

یہ بھی پڑھیں حماس اسرائیل جنگ بندی معاہدہ، سعودی عرب کا خیر مقدم، غزہ میں جشن

عرب میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کی ضمانت دی جائےگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسرائیلی فوج امریکی صدر ایران جنگ بندی معاہدہ جوہری پروگرام ڈونلڈ ٹرمپ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج امریکی صدر ایران جنگ بندی معاہدہ جوہری پروگرام ڈونلڈ ٹرمپ وی نیوز حماس کے درمیان اسرائیلی فوج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل