لاہور میں خطاب کرتے ہوئے ٹی بی یو ایم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آذربائیجان، بھارت اور اسرائیل کیساتھ قریبی عسکری و تجارتی تعلقات رکھتا ہے۔ اگر بھارت اور اسرائیل ایک صف میں کھڑے ہیں اور آذربائیجان ان دونوں کا قریبی اتحادی ہے، تو پاکستان کیساتھ آذربائیجان کی "دوستی" کا مفہوم اور خلوص کیا واقعی قابلِ اعتماد ہے؟ سیاسی و سفارتی شعور اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کر سکتا کہ دوست کا دوست ہمیشہ دوست نہیں ہوتا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے اپنے حالیہ خطاب میں پاکستان کی عالمی و علاقائی سفارتی سرگرمیوں پر سنجیدہ تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم، آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ حکام کی جانب سے حالیہ دنوں میں ترکیہ، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان جیسے اہم ممالک کے دورے اِس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں دفاع، معیشت اور سفارتکاری کے میدان میں متحرک اور فعال پالیسی کی جانب بڑھنے کی سعی کر رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ترکی اور آذربائیجان کیساتھ حالیہ قربت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے، کم از کم میڈیا بیانیے کی حد تک، پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، جس کے نتیجے میں عوامی سطح پر ان کو "پاکستان دوست" کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آذربائیجان کیساتھ عسکری اور سیاسی سطح پر یکجہتی کے متعدد مظاہر دیکھے گئے، حتیٰ کہ اسے "دو ریاستیں، ایک قوم" کے نعرے کیساتھ اُجاگر کیا گیا۔ علامہ جواد نقوی نے اس جذباتی تاثر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سیاست میں صرف بیانات اور دورے دوستی کی اصل بنیاد نہیں ہوتے۔ آذربائیجان، بھارت اور اسرائیل کیساتھ قریبی عسکری و تجارتی تعلقات رکھتا ہے۔ اگر بھارت اور اسرائیل ایک صف میں کھڑے ہیں اور آذربائیجان ان دونوں کا قریبی اتحادی ہے، تو پاکستان کیساتھ آذربائیجان کی "دوستی" کا مفہوم اور خلوص کیا واقعی قابلِ اعتماد ہے؟ سیاسی و سفارتی شعور اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کر سکتا کہ دوست کا دوست ہمیشہ دوست نہیں ہوتا۔ اسی طرح ترکیہ کیساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے تاریخی روابط مسلمہ ہیں، لیکن موجودہ قیادت خصوصاً صدر اردوان کی پالیسیوں میں کئی تضادات اور موقع پرستانہ روش واضح ہے۔ شام، فلسطین اور اسرائیل کے معاملات میں ترکی کی پالیسیوں نے بارہا مفادات کو اصولوں پر ترجیح دی ہے، جس سے خطے میں اس کی نیت اور مستقل مزاجی پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے میں پاکستان کو جذبات سے ہٹ کر حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے علامہ جواد نقوی نے کہا کہ ایران پاکستان کا قدیمی ہمسایہ اور نظریاتی اشتراک کا حامل ملک ہے، اور پاکستان کیلئے سب سے زیادہ مفید تعلق ایران کیساتھ ہے.

جتنا فائدہ پاکستان کو ایران کیساتھ ہو سکتا ہے اتنا چین کیساتھ بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مگر حالیہ برسوں میں پاک ایران باہمی تعلقات میں سرد مہری دیکھی گئی ہے۔ سرحدی جھڑپیں، میزائل حملے اور غیر ریاستی عناصر کی سرحد پار سرگرمیاں ان تعلقات کو کمزور کرتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ سلامتی کے امور پر گفتگو اہم ہے، لیکن پائیدار تعلقات صرف سکیورٹی ڈائیلاگ سے ممکن نہیں، بلکہ اس کیلئے سیاسی، معاشی اور ثقافتی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بھارت اور اسرائیل اور آذربائیجان انہوں نے کہا کہ آذربائیجان کی پاکستان کی کرتے ہوئے جواد نقوی

پڑھیں:

فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا

بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔

فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔

فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔

ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔

متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔

سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔

ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔

سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔

اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔

خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔

ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔

ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔

2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔

استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔

امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔

اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم