بھارت کا اثر و رسوخ بڑھانے کیلیے افغان شہریوں کیلیے نیا ویزا سسٹم متعارف
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
بھارت کا اثر و رسوخ بڑھانے کیلیے افغان شہریوں کیلیے نیا ویزا سسٹم متعارف WhatsAppFacebookTwitter 0 31 May, 2025 سب نیوز
نئی دہلی (آئی پی ایس )افغانستان میں بدلتی سیاسی صورتِ حال اور پاکستان کے ساتھ بڑھتے تعلقات سے خائف بھارت نے افغان شہریوں کیلیے جاری ایمرجنسی ویزا کا سلسلہ ختم کرتے ہوئے ایک نیا ویزا سسٹم متعارف کرا دیا ہے۔بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق، اس نئے نظام کے تحت افغان باشندے اب چھ مخصوص اقسام کے ویزوں کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بھارت نے 2021 میں اس وقت ایمرجنسی ویزا متعارف کرایا تھا جب طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا تھا، اور ہزاروں افغان شہری ملک سے باہر نکلنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ تاہم اب بھارت نے اس عارضی ویزا ماڈل کو ختم کرتے ہوئے ایک نیا مستقل نظام قائم کیا ہے۔بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے تصدیق کی کہ پرانے ای-ایمرجنسی ویزا کی جگہ جو نیا ماڈیول نافذ کیا گیا ہے، وہ طبی علاج، تعلیم، کاروبار، اقوام متحدہ کے سفارتی مشن، انٹری اور میڈیکل اٹینڈنٹ ویزا جیسی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔
ماہرین اس فیصلے کو بھارت کی طرف سے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو منظم کرنے کی نئی کوشش قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارت یہ اقدام افغانستان میں اپنا سیاسی و معاشی اثر و رسوخ بحال کرنے کی نیت سے کر رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب پاکستان اور افغانستان خطے میں انسداد دہشتگردی کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپناتے نظر آ رہے ہیں۔ادھر افغان وزارتِ اقتصادیات نے بھی اس نئے ویزا نظام کو مثبت قدم قرار دیا ہے۔ معاون وزیرِ اقتصاد عبداللطیف نظری کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں، خصوصا تاجروں، کو بھارت کے ویزے کے حصول میں آسانی فراہم کرنا دوطرفہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نئی دہلی اور کابل کے درمیان تعمیری روابط کا ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت کا فرانسیسی آڈیٹرز کو رافیل طیاروں تک رسائی دینے سے انکار ،مقصد خراب کارکردگی سے بچنا ہے:امریکی جریدے کی رپورٹ بھارت کا فرانسیسی آڈیٹرز کو رافیل طیاروں تک رسائی دینے سے انکار ،مقصد خراب کارکردگی سے بچنا ہے:امریکی جریدے کی رپورٹ حکومت پر اعتماد کرنے والے شہریوں میں نمایاں ترین اضافہ،سروے رپورٹ جاری وزیراعظم کی طرف سے اعلان کردہ بجلی کے فی یونٹ 7.41روپے کمی کا اسپیشل ریلیف اب بھی برقرار ایف بی آر کا مئی میں 206 ارب روپے کا ٹیکس شارٹ فال؛ سالانہ ہدف چیلنج بن گیا عمران خان کا حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان افغان حکومت کا بھی پاکستان میں اپنا سفیر تعینات کرنے کا اعلان
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: افغان شہریوں بھارت کا
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔