بھارت کو پانی بطور ہتھیار استعمال کرنے نہیں دیں گے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
کوئٹہ(نیوز ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش خطرات صرف روایتی میدان جنگ تک محدود نہیں، بھارت کو سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، بھارت نے کوئی مہم جوئی کی تو منہ توڑ جواب دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات سے مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ پر آ گئی، ٹیکس ٹو جی ڈی پی بڑھا ہے، ترقی کیلئے جی ڈی پی کو 15 فیصد پر لے جانا ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دورہ کوئٹہ کے دوران کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج نے ہمیشہ شاندار خدمات انجام دی ہیں، مسلح افواج ہماری خود مختاری اور سالمیت کی محافظ ہیں، دوست ممالک سے آئے مہمانوں کا خیرمقدم کرتےہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ آپ کی یہاں موجودگی ہمارے بہترین تعلقات کی عکاس ہے، پہلگام کی آڑ میں بھارتی اقدامات کیخلاف بھر پور دفاع کیا، ہماری مسلح افواج نے بہترین خدمات سرانجام دیں، بھارت کو جارحیت پر منہ توڑ جواب دیا گیا۔
وزیراعظم شہبازشریف نے خطاب میں کہا کہ ایئر فورس نے 7 ہائی ویلیو ٹارگٹ کو نشانہ بنایا، فیلڈ مارشل کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث تاریخی کامیابی ملی، پاکستان نے بھارت کو پہلگام واقعہ کی تحقیقات کی پیشکش کی، حکومت اورعوام پاک افواج کے شانہ بشانہ ہیں۔
انھوں نے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اللہ نے ہمیں شاندار فتح سے نوازا ہے، بھارت نے جارحیت میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، آئندہ بھی کوئی مہم جوئی ہوئی تو منہ توڑ جواب دیں گے، بھارت کو پانی بطور ہتھیاراستعمال کرنے نہیں دیں گے، پاکستان کو درپیش خطرات صرف روایتی میدان جنگ تک محدود نہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ مسلح افواج ہماری خودمختاری و سالمیت کی محافظ ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب معاہدے سے معیشت کو استحکام ملا، معاشی استحکام کیلئے بنیادی سطح پر اصلاحات کی ضرورت ہے، پاکستان کا مورال اس وقت بہت زیادہ ہائی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے، کچھ ایسا کیا جائے جس کی قوم خواہش کر رہی ہے، ایسا حاصل کریں جس کا قائداعظم نے سوچا اور دنیا تعریف کرے۔ اب ہم پر ہے کہ اس موقع سے کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ملک میں سب کچھ ہے، یقین دلاتا ہوں کہ بہت کچھ کر سکتے ہیں، ہمارے پاس قدرتی وسائل موجود ہیں، لوگ عظیم ہیں، ٹیکس ٹو جی ڈی پی بڑھاہے، ترقی کیلئے جی ڈی پی کو 15 فیصد پر لے جانا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ حکومتی اقدامات سے مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ پر آ گئی، فیلڈ مارشل کے اقدامات سے ایک سال میں اسمگلنگ میں کمی آئی، اسملنگ ملکی معیشت کیلئے کینسر بن چکی ہے، میں ہر ہفتے ایف بی آر کا اجلاس بلاتا ہوں، ہماری حکومت میں کرپشن کیلئے زیروٹالرنس ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قریبی دوست ممالک چاہتے ہیں کہ پاکستانی تجارت بڑھے، سعودی عرب پاکستان کا سب سے قریبی دوست ملک ہے، بہت جلد دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کر دیں گے۔
مزیدپڑھیں:قومی کرکٹر بابراعظم فینز سے کیوں اُلجھے؟ وجہ سامنے آگئی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: نے کہا کہ بھارت کو انھوں نے جی ڈی پی دیں گے
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔