تیز ہواؤں نے باعث کشتی الٹنے سے ایک ماہی گیر لاپتہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
معمول سے تیزہواؤں کے سبب پورٹ قاسم کے قریب ڈوبنے والی ماہی گیر لانچ پرسوار ایک مچھیرے کا تاحال سراغ نہ مل سکا۔
تفصیلات کے مطابق ہفتے کی صبح پورٹ قاسم کے قریب تیز ہواؤں کے باعث کشتی بے قابو ہوکر الٹ گئی۔ ریسکیو ٹیموں اورمقامی ماہی گیروں کی مدد سے کشتی پرسوار4 ماہی گیروں کو بچالیا تاہم ایک لاپتہ ہے جس کی عثمان کے نام سے ہوئی ہے۔
حادثے کی وجہ سے لانچ پرسوار ماہی گیروں کو چھوٹی موٹی چوٹیں آئیں۔ انھیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
لاپتہ ماہی گیر کی تلاش کیلیے ہفتے کی شام تک ریسکیو آپریشن جاری رہا تاہم اندھیرے کی وجہ سے آپریشن روک دیا گیا ہے۔
ترجمان فشرفوک فورم کمال شاہ کے مطابق حکومت اور اداروں سے اپیل ہے کہ ماہی گیروں کوغیر معمولی موسم کے پیش نظربروقت و پیشگی موسمی اطلاعات فراہم کی جائیں تاکہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
ان کا کہناہے کہ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتا ماہی گیر کی تلاش میں تیزی لائی جائے اورلاپتہ وزخمی ہونے والے ماہی گیروں کےمتاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ماہی گیروں ماہی گیر
پڑھیں:
کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
کراچی:شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔
ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔