Express News:
2026-06-03@05:01:49 GMT

حکومت کا سارا زور تنخواہ دار اور کارپوریٹ طبقے پر رہا

اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT

اسلام آباد:

تجزیہ کار شہباز رانا کا کہنا ہے کہ حکومت نے ہر چیز ٹرائی کر لی جیسے ہم پہلے بات کر چکے ہیں، نان ٹیکس سروس سے ایک چیئرمین بھی لے کر آئے، جو چیئرمین آئے انھوں نے بہت سارے اقدامات کیے، زیادہ تر فوکس اس چیز پہ تھا کہ نئی خریداریاں کی جائیں، ان کا جو انفرا اسٹرکچر ہے اس کو بہتر کیا جائے ، ان کو گاڑیاں دی جائیں، ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے،اس کے ساتھ کچھ اور بڑی پرکیورمنٹس کی گئیں۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام دی ریویو میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت کو ٹیکس وصولیوں میں 1030ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے،حکومت کا سارا زور تنخواہ دار اور کارپوریٹ طبقے پر رہا۔ 

تجزیہ کار کامران یوسف نے کہا کہ یہ جو فنانشل ایئر آل موسٹ کلوز ہونے والا ہے گیارہ ماہ ہو گئے ہیں، جو نمبر ہمارے پاس ایف بی آر کے جو ریوینو ٹارگٹ تھا یہ تو کلیئر ہے کہ وہ پورا کر نہیں پائیں گے، ان فیکٹ جو گیارہ ماہ کا نمبر ہے جو شارٹ فال وہ اب ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ ہو گیا ہے، اور کلیئرلی جو ریوائزڈ ٹارگٹ بھی تھا جو آئی ایم ایف کے ساتھ ہم نے طے کیا تھا لگتا نہیں ہے کہ وہ پورا ہو پائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹھیک 24 دن کے بعد بلآخر بھارت نے یہ اعتراف کر لیاکہ 6 اور7 مئی کی درمیانی شب جب اس نے پاکستان کے اوپر میزائل داغے تو پاکستان نے اس کے جواب میں بھارت کے کم از کم 6 لڑاکا طیارے مار گرائے،اس سے پہلے بھارتی حکام اس حوالے سے انکار تو نہیں لیکن تصدیق کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی