نور مقدم کا مقدمہ ایک ایسی کہانی ہے جو صرف ایک لڑکی کی زندگی کے چراغ گل ہونے کی کہانی نہیں بلکہ وہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم اپنی اس سماجی عدالتی اور اخلاقی بربادی کو دیکھ سکتے ہیں جس پر صدیوں سے گرد جمی ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ انصاف ہوگیا۔ ہمیں کہا گیا کہ قاتل کی پھانسی کی سزا برقرار رکھی گئی ہے، لیکن اس فیصلے میں وہ ریمارکس بھی ثبت ہو چکے ہیں جو مظلوم کو کٹہرے میں لاکھڑا کرتے ہیں اور مجرم کو بالواسطہ ہی سہی ایک بگاڑ کا شکار نوجوان کہہ کرگویا معذور قرار دیتے ہیں؟
جب اس طرح کی رائے سامنے آئے کہ ’’ لڑکی کو بچنے کا موقع ملا، اسے بھاگ جانا چاہیے تھا‘‘ تو یہ کسی مجرم کو فائدہ دینے والی دلیل ہے حالانکہ ایک نہتی لڑکی، ایک نہتی عورت جب کسی جگہ قید ہوتی ہے، جب اس کے پاس بھاگنے کی راہیں مسدود کردی جاتی ہیں، جب اسے جسمانی ذہنی اور نفسیاتی اذیت دی جاتی ہے تب وہ کیسے فرار ہو سکتی ہے؟
ہم ایک ایسے سماج میں سانس لے رہے ہیں جہاں عورت کا جسم اس کی آواز اس کی مرضی اور اس کی موت تک کو مشکوک سمجھا جاتا ہے، وہ اگر چُپ رہتی ہے تو اس پر الزام ہے۔ وہ بولتی ہے تو گستاخ ٹھہرتی ہے۔ وہ عدالت جاتی ہے تو کٹہرے میں خود ہی کھڑی ہوتی ہے اور جب وہ قتل ہو جاتی ہے تو اس کے بھاگ نہ سکنے پر سوال اٹھایا جاتا ہے۔
یہ ہماری ہر اس بیٹی کی پکار ہے جو اس سماج میں سانس لیتی ہے، جسے کبھی غیرت کے نام پر مارا جاتا ہے کبھی ونی کردیا جاتا ہے، کبھی ریپ کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور جب وہ انصاف مانگتی ہے تو اسے کردارکے آئینے میں پرکھا جاتا ہے۔ جس نظامِ عدل کو مظلوم کا سہارا ہونا چاہیے وہ اکثر و بیشتر طاقتورکا ہتھیار بن کر سامنے آتا ہے۔
ہم نے مختاراں مائی کو دیکھا، ہم نے قندیل بلوچ کی موت کو دیکھا اور ہم نے نور مقدم کا لہو بھی زمین پر بہتا دیکھا، لیکن کیا ہم نے ریاست، عدلیہ اور سماج کی جانب سے کسی اجتماعی توبہ ،کسی سچے خراج عقیدت یا کسی سنجیدہ اصلاحی قدم کو دیکھا؟ نہیں۔ کیونکہ اس نظام کی جڑوں میں وہ زہر موجود ہے جو عورت کو دوسرے درجے کی مخلوق سمجھتا ہے۔ وہ قانون جو طاقتور مرد کے سامنے جھکتا ہے، وہ ضابطے جو بااثر خاندانوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتے ہیں اور وہ فیصلے جو ظالم کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، اس سماج کی عورت کوکبھی انصاف نہیں دے سکتے۔
پاکستان کی اشرافیہ اور خاص طور پر مرد اشرافیہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ تصاویر تو بناتی ہے، انھیں سوشل میڈیا پر فخر سے ظاہرکرتی ہے لیکن جب کسی مجرم کا تعلق اس اشرافیہ سے ہوتا ہے تو پھر یہ پورا طبقہ انصاف کی راہوں میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ بااثر امیر ملزمان کے گھر پر پولیس نہیں پہنچتی، ان کے خلاف بیانات بدل دیے جاتے ہیں اور ذہنی مریض ہونے کی جعلی گواہیاں عدالتوں میں پیش کی جاتی ہیں۔ پھر بھی ہمیں بتایا جاتا ہے کہ انصاف اندھا ہے، سب برابر ہیں۔
کاش کہ یہ اندھا انصاف ایک لمحے کو وہ آنکھ کھولتا جو صرف عورتوں کے دکھ دیکھ سکے۔ ان کے زخموں کو محسوس کرسکے، ان کی چیخوں کو سن سکے۔ لیکن یہاں تو نظام انصاف بھی پدر سری نظام کے پروردہ ہے۔ وہ بھی وہی زبان بولتا ہے جو اس سماج کی گلی کوچوں میں عورت کے خلاف بولی جاتی ہے۔
انصاف صرف سزا دینے کا نام نہیں۔ انصاف سماجی سوچ بدلنے مظلوم کو سینے سے لگانے اور طاقتور کو کٹہرے میں لا کھڑا کرنے کا نام ہے۔
ہم کب سمجھیں گے کہ عورت کے خلاف یہ جنگ صرف کسی ایک مجرم یا ایک کیس کی بات نہیں بلکہ پورے نظامِ ظلم کے خلاف اعلانِ بغاوت ہے؟ یہ بغاوت ہم تبھی کامیابی سے کر سکیں گے جب ہم اپنی عدلیہ اپنے نظامِ تعلیم اپنے میڈیا اپنے گھروں اور مساجد میں عورت کو برابری کا درجہ دیں گے۔ جب ہم اس پدرسری ذہنیت کے خلاف علم بلند کریں گے جو عورت کو یا تو چادر میں لپیٹ کر دفن کرنا چاہتی ہے یا بازار میں نیلام کرنا چاہتی ہے۔
عورت کی آزادی اس کے تحفظ اور اس کی عزت کا سوال صرف انسانی حقوق کا سوال نہیں بلکہ ایک سیاسی طبقاتی اور معاشی سوال بھی ہے۔ جب تک اس ملک کی اکثریتی غریب عورتیں، غربت، جہالت اور پدرسری کی تکون میں پھنسی رہیں گی، تب تک نور مقدم جیسے کیسز آتے رہیں گے اور عدلیہ انھیں صرف سزا دے کر بری الذمہ ہو جائے گی، ان زخموں کو بھرنے کی کوئی کوشش نہیں کرے گا۔
ہمیں انصاف چاہیے لیکن وہ انصاف جو عورت کی خاموشی کو آواز دے اس کے آنسوؤں کو عدالتی تحریروں میں شامل کرے اور ججوں کو یہ سکھائے کہ آپ کی کرسی پر بیٹھ کر آپ کے الفاظ بھی انصاف کے ترازو میں تولے جاتے ہیں، اگر آپ کا ایک ریمارک مجرم کو تقویت دے یا مظلوم کو مزید مجرم بنا دے تو وہ ریمارک صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ایک سند بن جاتا ہے۔
ہمیں آپ کو اور اس پورے سماج کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا ظالم کی زبان بولنے والوں کے ساتھ۔ کیونکہ تاریخ خاموش نہیں رہتی وہ ہر لفظ کو محفوظ کرتی ہے۔
ہم تمہیں یاد رکھیں گے، ہر اُس بیٹی کو جس کے خواب اس سماج نے تاریک راہوں میں دفن کیے اور ہم لڑیں گے اس دن تک جب تک انصاف واقعی انصاف بن کر عورت کے قدم چومے گا نہ کہ اس کے زخموں پر سوالیہ نشان بنے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نہیں بلکہ جاتا ہے کے خلاف عورت کو جاتی ہے
پڑھیں:
جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد
کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔
اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔
ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔
اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔
بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔